رشتہ داروں کو گرفتار کرنے کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناروے میں مطلوب ایک پاکستانی ملزم کو گرفتار کرنے کے لئے بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے گجرات پولیس کو اختیار دیا ہے کہ وہ ملزم کے باپ، بہن اور کسی بھی ایسے رشتے دار کو گرفتار کرسکتی ہے جنہوں نے اس کو پناہ دی ہو۔ گجرات کے ایک شہری نسیم ممتاز کے خلاف ناروے کے سفارت خانہ نے ایک رٹ درخواست دائر کی ہوئی ہے جس میں اس کی بازیابی کے لیے کہا گیا ہے۔ وہ ناروے سے اپنے دو کم سن بیٹوں، خاقان ممتاز اور حنان ممتاز کو لے کر پاکستان آنے کے بعد روپوش ہوگئے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے یہ سخت حکم جاری کیا جس میں پولیس کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ ملزم کے والد، ان کی بہن اور ایسے کسی رشتے دار کو گرفتار کر سکتی ہے جو ملزم کو پناہ دے یا اس کے جرم میں شریک ہو۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ ایسے کسی شخص کو جو اس تفتیش سے منسلک ہے اس وقت تک رہا نہیں کرے گی جب تک عدالت عالیہ اس کی اجازت نہ دے۔ عدالت عالیہ نے ملزم کے بینک کھاتہ کو منجمد کرنے اور سینیر سول جج گجرات کو اس کے تجارتی پلازہ سے کرایہ کی رقم وصول کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس مقدمہ کی اگلی سنوائی اکیس جون کو ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||