آم ہیں مگر کم اور کم میٹھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرزا غالب نے کہا تھا کہ آم بہت ہوں اور میٹھے ہوں لیکن اس سال پاکستان کے صوبہِ سندھ میں صورتِ حال اس کے برعکس نظر آرہی ہے۔ یعنی آم کم بھی ہیں اور کم میٹھے بھی۔ اس سال آموں کی پیداوار بیس فیصد کم ہونے کا امکان ہے۔ گزشتہ ماہ جب آم تیار ہونے کے قریب تھے بحیرہ عرب سے اٹھنے والے گرد وغبار اورطوفانی ہواؤں کی وجہ سے کیریوں کا پیڑوں سے گرنا آم کی فصل کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ وقت سے پہلے آموں کے چناؤ کی وجہ سے ان کے ذائقہ میں زیادہ مٹھاس نہیں ہے اور مارکیٹ میں موجود آموں کا سائز بھی چھوٹا ہے۔ محکمہ زرعی تحقیق اور توسیع کے ڈائریکٹر ملک محمد اکرم کے مطابق سندھ میں سینتالیس ہزارہیکٹر پر آموں کے باغات ہیں جن سے گزشتہ سال تین لاکھ چالیس ہزار ٹن پیداوار ہوئی تھی۔ آموں کے باغوں کے ایک مالک ابوبکر رند کا کہنا ہے کہ اس سال بیس فیصد پیداوار کم ہونے کا امکان ہے۔ پانی کی قلت کی وجہ سے باغات کو وقت پر پانی نہیں مل سکا اور رہی سہی کسر طوفانی ہواؤں نے پوری کردی۔
پاکستان میں آموں کی دو سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان میں سندھڑی، چونسہ، انور رٹول، لنگڑا، سرولی، سنہرا، بینگن پھلی، کلیکٹر، نیلم، صالح بھائی، زعفران، گلاب خاصہ، دسہری اور الماس اپنے ذائقہ اور خوشبو کی وجہ سے نسبتاً مشہور ہیں۔ ادارہ فروغ برائے برآمدات (ایکسپورٹ پروموشن بیورو) کے مطابق پاکستان میں دس لاکھ ٹن آم پیدا ہوتے ہیں لیکن بمشکل چھ فیصد برآمد کئے جاتے ہیں۔ سندھ کی عالمی شہرت یافتہ آموں کی جنس سندھڑی کی پیداور اور معیار میں بھی کمی آرہی ہے۔ میر پورخاص کے بیوپاری محمد شریف آموں کے معیار میں کمی کی ایک اور بھی وجہ بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر باغات زمینداروں نے مقاطعہ (ٹھیکہ) پر دیئے ہوئے ہیں جنہیں زیادہ منافع کمانے کے چکر میں وقت سے پہلے مارکیٹ میں لایا جاتا ہے اور اسی لئے ان کا ذائقہ بہتر نہیں ہوتا۔ اسی رجحان کی وجہ سے بیرون ملک ایکسپورٹ بھی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان میں میرپورخاص کو آموں کے شہر کی حثیت حاصل ہے۔ انیس سو چار میں یہاں پر زرعی اسٹیشن قائم کیا گیا تھا اور بر صغیر میں آموں کی کرافٹنگ سب سے پہلے یہاں پر ہوئی تھی۔ انیس سو بتیس میں سندھڑی آم بھی اس شہر میں متعارف کرایا گیا تھا۔ پاکستاں کے سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کے والد دین محمد خان نے اس ورائٹی کو متعارف کروایا جس کی وجہ سے اس آم کا نام ان کے گاؤں سندھڑی سے منسوب گیا۔ آموں کی باغبانوں کی ہمت افزائی کے لئے میرپورخاص میں انیس سو پینسٹھ سے آم کا میلہ منعقد کیا جاتا ہے۔ اس سال بھی یہ میلہ گزشتہ ہفتے منعقد ہوا جس میں میرپورخاص سمیت حیدرآباد، سانگھڑ، نوابشاہ اور بدین ضلع کے دوسوباسٹھ باغبانوں نے شرکت کی۔ نمائش میں آموں کی دو سو اقسام رکھی گئی تھیں۔
محکمہ زراعت اور زرعی یونیورسٹی کے اساتذہ پر مشتمل ججوں کے پینل نےمختلف مشہور جنسوں کے آم چکھ کرنمبر لکھے اور ہر دوسری جنس کا آم چکھنے سے پہلے لسّی کا گھونٹ پیا تاکہ زباں دوسرا ذائقہ چکھنے کے لیے تیار ہوسکے۔ اس سال پہلا انعام چودھری سعید احمد، دوسرا خیر محمد بھرگڑی اور تیسرا سیٹھ خوب چند کو دیا گیا۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی آموں کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر ایکسپورٹ بیورو نے اس میں دلچسپی لی ہے۔ اس سال اعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ یہ میلہ سات روزہ ہوگا اور آموں کے حوالے سے ویب سائٹ تیار کی جائےگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||