بھارتی قیدیوں کی بھوک ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں تیس سے زیادہ ہندوستانی قیدیوں نے اپنی رہائی کے لیے احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے۔ یہ قیدی اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں ہندوستان بھیجا جائے۔ انسانی حقوق کمیش برائے پاکستان کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیر قانونی طریقے سے ترکی جا پہنچے تھے ، وہاں سے ایران گئے اور پھر پاکستان میں داخل ہوگئے۔ پاکستان میں انھیں ملک میں غیر قانونی طریقہ سے داخل ہونے کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا ہوئی۔ یہ سزا پوری ہونے کے بعد چند مہینے پہلے اکتیس قیدیوں کو بلوچستان کی مچھ جیل سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ انھیں ہندوستان بھیج دیا جائے گا۔ تاہم اب تک ان قیدیوں کو رہا کرنے اور ہندوستان بھیجنے کی سرکاری کاروائی شروع نہیں ہوسکی۔ انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تو ہندوستان کے قونصلر ان قیدیوں سے ملیں گے تب ان کی رہائی کا سرکاری عمل شروع ہوگا۔ انسانی حقوق کمیشن اس بارے میں ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو خطوط لکھ چکا ہے لیکن معاملہ جوں کا توں ہے۔ کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کی بھوک ہڑتال کی تصدیق یاتردید کرنے کے لیے جیل حکام دستیاب نہیں ہوئے۔ تاہم انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسے قیدیوں کے خطوط ملے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ کوٹ لکھپت جیل میں یہ ہندوستانی قیدی احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں ان اکتیس قیدیوں کے علاوہ دو قیدی اور بھی موجود ہیں جن میں سے ایک مدراس کا ہے اور دوسرا ہندوستانی پنجاب کا۔ ان دونوں سے ہندوستان کے قونصلر مل کر جاچکے ہیں اور انھیں ویزا بھی دے دیا گیا لیکن ویزے میں ان کے ذریعہ سفر بس یا ٹرین کے بارے میں غلط اندراج سے ان کی رہائی اور ہندوستان منتقلی رک گئی اور اب تک معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ممبئی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ نامی ایک عورت بھی موجود ہے جو سات آٹھ سال پہلے اسلام آباد سے گرفتار ہوئی تھی اور اسے ملتان جیل میں رکھا گیا۔پھر اسے لاہور لایا گیا۔ فاطمہ کے بقول اس کےوالد مسجد کے امام تھے اور اس کے سات بچے ہیں لیکن برسوں گزرنے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی کوششوں کے باوجود اس عورت کی ہندوستان منتقلی کا معاملہ حل نہیں ہوسکا۔اسی طرح راولپنڈی جیل میں سات ہندوستانی قیدی موجود ہیں جو سزا مکمل کرنے کے باوجود اپنے ملک جانے کا انتظار کررہے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ملک کی جیلوں میں سینکڑوں ایسے ہندوستانی قیدی موجود ہیں جو اپنی سزامکمل کرچکے لیکن ان کو رہائی نہیں ملتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||