’سکیورٹی ایجنسیاں ناکام نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ مخدوم سید فیصل صالح حیات نے کراچی میں شدت پسند کارروائیوں کی بنا پر صوبہ سندھ کے گورنر اور وزیراعلیٰ کو ہٹانے کے حزب اختلاف کے مطالبوں کو غیر جمہوری قرار دیا ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی تحاریک التویٰ پر بحث سمیٹتے ہوئے ان کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو ایوان میں اکثریت ہے تب ہی وہ اس عہدے پر ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا شدت پسندی کی کاروائیاں امریکہ، اسپین ، سعودی عرب ، اور ترکی میں نہیں ہو رہیں؟ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ حزب اختلاف کے اراکین امن امان بہتر بنانے کے لئے مثبت تجاویز دیں گے لیکن انہیں افسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں انتہا پسندی اور شدت پسندوں کے خلاف اقدامات کرنا لازمی تھے جو کہ ان کے بقول صدر مشرف نے کیے اور کچھ اسلام دشمن اور ملک دشمن عناصر کو وہ اقدامات پسند نہیں آئے کیونکہ ان کا ایجنڈہ اور ہے۔ وفاقی وزیر نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر شدت پسندوں کے خلاف حکومت سے تعاون کریں اور امن امان بہتر بنانے کے لئے تجاویز دیں۔ ان کی رائے تھی کہ امن امان بہتر کرنا سب کی ذمہ داری ہے صرف حکومت کی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند کارروائیاں کرنے والے ایسے دشمن ہیں جو سامنے نہیں بلکہ گھات لگا کر حملے کر رہے ہیں۔ وزیر کادعویٰ تھا کہ پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کو ناکام نہیں کہا جا سکتا کیونکہ شیریٹن خود کش حملے کا معاملہ ہو یا امریکی قونصلیٹ بم دھماکہ کا، ایسے متعدد واقعات میں پولیس اور دیگر ایجنسیاں ملزمان تک پہنچی ہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ کراچی میں دوہزار سے زائد مساجد اور امام بارگاہوں پر پولیس تعینات ہے۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت شدت پسند ملک دشمن عناصر کے آگے جھکے گی نہیں بلکہ انہیں ختم کرکے دم لے گی۔ قبل ازیں کراچی کے پرتشدد واقعات کے معاملات پر حزب اختلاف کی پیش کردہ تحاریک التویٰ پر بحث ہوئی۔ چھ گھنٹوں سے زائد دیر تک جاری رہنے والی اس بحث میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت یا اے آر ڈی کے رہنما مخدوم امین فہیم ، متحدہ مجلس عمل یا ایم ایم اے، کے رہنما حافظ حسین احمد سمیت بیشتر اراکین نے حصہ لیا اور حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے صوبہ سندھ کے گورنر اور وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ حزب اختلاف نے شدت پسند کارروائیوں کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا، جس کا وزیر داخلہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حزب اختلاف کے اراکین کا کہنا تھا کہ رینجرز اور پولیس سمیت تمام سیکورٹی ایجنسیاں عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جس پر اراکین نے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے۔ دریں اثناء وزیر داخلہ نے اس سے پہلے اخبار نویسوں سے گفتگو میں بتایا کہ کوئٹہ اور کراچی میں ہونے والے پر تشدد واقعات کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ قبائلی علاقے وانا میں موجود شدت پسندوں سے ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کراچی سے 171 مشکوک افراد کو حراست میں لیا جا چکا اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر صوبے میں ہر قیمت پر امن امان قائم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے اور پولیس میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید تبدیلیاں بھی لائی جاسکتی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وانا کے اسی فیصد عوام حکومت کے ساتھ ہیں اور ان کے تعاون سے غیرملکی شدت پسندوں کے خاتمے تک کارروائی جاری رہے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||