BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 May, 2004, 17:47 GMT 22:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور میں گدھوں کا ’مقابلہ حسن‘

گدھا
پہلا انعام حاصل کرنے والے گدھے کے مالک کو پندرہ سو روپے انعام مِلا
پشاور میں ایک برطانوی غیرسرکاری تنظیم نے گدھوں کی مناسب دیکھ بھال کے بارے میں آگہی پھیلانے کے لئے گزشتہ دنوں گدھوں کا مقابلہ منعقد کیا اور ان کے مالکان میں انعامات تقسیم کئے۔

پاکستان میں گدھوں کی اکثریت مزدوروں کی ملکیت ہے جو اس کی صحت اور خوراک کا مناسب خیال نہیں رکھ سکتے۔ ملک میں گدھوں کی فلاح و بہبود پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔

اس مقابلے کو بعض لوگوں نے مقابلہ حسن اور مقابلہ صحت کا نام دیا۔

یہ مقابلہ پشاور کے قریب سوڑیزئی کے علاقے میں منعقد ہوا۔ اس کا انعقاد پشاور میں بروک ہسپتال اور جانوروں سے بدسلوکی کے خاتمے کی تنظیم رائل سوسائٹی فار پریونشن آف کرولٹی ٹو اینیملز نے کیا۔

سوسائٹی کی سربراہ ٹوپسی ہیوز نے پہلے پندرہ نمبروں پر آنے والے صحت مند گدھوں میں انعامات تقسیم کئے۔ مثال خان کا گدھا پہلے نمبر پر آیا اور انہیں انعام میں پندرہ سو روپے ملے۔ دوسرے نمبر پر آنے والے کو بارہ سو اور تیسرے نمبر پر آنے والے کو ایک ہزار روپے کا انعام مِلا۔

مقابلے کے لئے سوڑیزئی کا انتخاب اس لئے کیا گیا تھا کہ منتظمین کے مطابق وہاں سینکڑوں بھٹہ خشت ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں گدھے موجود ہیں جو سخت دھوپ اور نامساعد حالات میں کام کرتے ہیں۔ ان کے پانی اور خوراک کا بھی کم ہی خیال رکھا جاتا ہے۔

بروک ہسپتال کے منتظم میجر(ریٹائرڈ) احمد علی جان بابر نے کہا کہ اس مقابلے کا مقصد گدھوں کے ساتھ بہتر سلوک کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

اس مقابلے کے جج ماہر حیوانات ڈاکٹر شہابت خان نے گدھوں کے ساتھ بدسلوکی کی وجوہات غربت اور ناخواندگی بتائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان گدھوں کے مالکان اپنے بال بچوں کا خیال نہیں رکھ سکتے تو ان جانوروں کا خیال وہ کیسے رکھ سکتے ہیں۔

مقابلے میں شرکت کے لئے آئے ایک گدھے کے مالک غلام مصطفی نے کہا کہ وہ گدھوں کو نہیں مارتے ’ ہم کیسے مار سکتے ہیں وہ تو ہماری روزی کا سبب ہیں۔ ہم تو ان کا پورا خیال رکھتے ہیں‘۔

ڈاکٹر شہابت کا کہنا تھا کہ صرف پشاور کے چھ مقامات پر جہاں ان کی تنظیم ان جانوروں کو مفت طبی سہولتیں فراہم کر رہی ہے وہاں ان کی تعداد تقریباً ستر ہزار ہے۔

اگرچہ انسانوں کے لئے پاکستان کی گلی گلی میں فلاحی ہسپتال اور کلینک کھلے ہیں لیکن کسی غیرسرکاری تنظیم نے ابھی تک جانوروں کی حالت زار پر توجہ نہیں دی۔ اسی وجہ سے شاید ایک غیرملکی تنظیم اور غیرملکی رقم کے ذریعے ان مفید جانوروں کے بہبود کا خیال رکھا جاتا ہے۔

ماہرین کے بقول پاکستان میں گدھے سب سے زیادہ نظر انداز کئے جانے والے جانور ہیں۔ مقابلہ صحت کی اس کوشش سے امید کی جاتی ہے کہ ان کی بہتر نگہداشت پر توجہ دی جا ئے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد