من موہن سنگھ آج حلف اٹھائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ہفتے کی شام کانگریس آٹھ سال بعد ایک بار پھر اس وقت اقتدار میں واپس آجائے گی جب ڈاکٹر من موہن سنگھ ملک کے چودہویں وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ من موہن سنگھ کے ساتھ، جو ملک کے پہلے سکھ وزیرِ اعظم ہیں، ان کی کابینہ کے ساٹھ وزیروں کی حلف برداری بھی متوقع ہے۔ نئی حکومت میں نیشنلسٹ کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، اور ڈی ایم کے جیسی جماعتیں شامل ہو رہی ہیں لیکن اہم وزارتوں کے لئے ان جماعتوں کے درمیان کافی کشمکش رہی ہے۔ دلی سے بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا ہے کہ کانگریس کے اعلیٰ رہنما کل دن بھر لالو پرساد یاِدیو اور شرد پوار کو منانے میں مصروف رہے اور یہ کوششیں بالاخر کامیاب ثابت ہوئیں۔ اب لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریا جنتا دل اکیس ارکان کے ساتھ کانگریس کی سب سے بڑی اتحادی ہے اور اس کے مطالبات بھی اس کی مناسبت سے بڑے ہیں۔ خبریں گرم ہیں کہ ابتدائی طور پر وزراتِ خزانہ ڈاکٹر من موہن سنگھ خود اپنے پاس رکھیں گے۔ ذرائع کے مطابق پرانب مکھرجی کو وزراتِ داخلہ اور نٹور سنگھ کو وزارتِ خارجہ دیئے جانے کی توقع ہے۔ کانگریس کے پریہ رنجن داس منشی پارلیمانی امور کے وزیر بنائے جا سکتے ہیں۔ اس دوران کانگریس نے سی پی آئی ایم کے رہنما سومنات چٹرجی کو سپیکر کے عہدے کی پیش کش کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||