خاتون کی بےحرمتی کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہر نوشہرہ کی ایک پندرہ سالہ نوجوان لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ اسے چند افراد نےگزشتہ دنوں سرعام مارا پیٹا اور اس کی بے حرمتی کی۔ نوشہرہ میں کوچہ ڈھیری کی رہائشی رافعہ نے روتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ چھ افراد، جن کی سربراہی مبینہ طور پر سید فقیر کر رہا تھا، دو مئی کو ان کے گھر میں گھس آئے اور اسے زبردستی گھسیٹ کر گلی میں لے آئے۔ ’انہوں نے مجھے مارا پیٹا اور میرے کپڑے پھاڑ کر میری بے عزتی کی‘۔ اس موقع پر رافعہ کی والدہ، بڑی بہن اور چچا بھی موجود تھے۔ رافعہ کا کہنا تھا کہ ملزمان بااثر لوگ ہیں اور اب اسے اور اس کے خاندان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ’ہم یہ بے عزتی قبول کرنے کو تیار نہیں اور حکومت سے انصاف چاہتے ہیں۔ مجھے خطرہ ہے کہ یہ لوگ میرے اہل خانہ پر مزید حملے بھی کر سکتے ہیں‘۔ رافعہ کے چچا عبدالستار نے اس واقعے کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سید فقیر نے یہ کارروائی اس شک کی بنیاد پر کی کہ رافعہ کے والد نےاس کی بیٹی سے جنسی زیادتی کی ہے۔ رافعہ کے والد کراچی میں ٹرک ڈرائیور ہیں۔ لڑکی کے چچا نے کہا ’ہم نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے اقبال کو کراچی سے طلب کیا لیکن انہوں نے اس کا انتظار کئے بغیر اس کے گھر پر حملہ کر دیا اور بیٹی کو علاقے کے لوگوں کے سامنے برہنہ کر دیا‘۔ رافعہ نے بتایا کہ وہ خوف کے مارے گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہر منتقل ہوگئے ہیں۔ عبدالستار نے بتایا کہ انہوں نے چھ افراد کے خلاف اس واقعے کی رپورٹ پولیس کے پاس درج کرا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اب تک صرف ایک ملزم کو ہی حراست میں لیا ہے جبکہ باقی آزاد گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان اب تصفیے کی پیشکش کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی دیگر خواتین کی بے حرمتی، قتل اور مکان جلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت کا مطالبہ کیا۔ رافعہ اور اس کے خاندان نے اس سلسلے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم سے بھی رابطہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||