لاہور کے وکلاء ہڑتال کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وکلاء نے انیس مئی کو لاہور کے سیشن اینڈ ڈسٹرکٹ جج کے خلاف احتجاج کے طور پر عدالتی کام سے ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وکلاء جج کو ہٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہڑتال کی کال لاہور بار ایسوسی ایشن اور پنجاب بار کونسل کی جانب سے دی گئی ہے۔ لاہور بار کے صدر مرزا حنیف بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے اُن کی بات چیت ہوئی ہے۔جس میں چیف جسٹس نے سیشن جج لاہور خلیل چودھری کو تبدیل کرنے سے اتفاق کیا لیکن جب تک وہ اس کا باقاعدہ اعلان نہیں کرتے وکلاء ہڑتال کی کال واپس نہیں لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وکلاء کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ان کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔ تاہم جن وکلاء نے ہلڑ بازی کی ان کے خلاف پنجاب بار کونسل انضباطی کاروائی کر سکتی ہے۔ آج لاہور بار ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کا اجلا ہوا اور وکلاء نے دوگھنٹے کے لیے احتجاجی کیمپ بھی لگایا۔وکلاء نے اعلان کیا کہ یہ کیمپ روز لگایا جائے گا۔ دوسری طرف سیشن جج خلیل چودھری آج غیر اعلانیہ طور پر رخصت پر رہے اور اپنے دفتر نہیں آئے۔ تاہم دیگر ججوں نے آج بھی کام کیا اور وکلاء ان کے سامنے پیش ہوئے۔ چند روز پہلے ایک جج نے دو ملزم وکلاء کی ضمانت مستقل کرنے سے انکار کیا تو وکلاء نے احتجاج شروع کردیا اس پر پولیس نے وکلاء اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر کو گرفتار کرنا چاہا جس پر ایک وکیل کی شلوار اتر گئی۔ اس پر وکلاء نے ججو ں کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ان کا پولیس سے تصادم ہوا جس پر دو روز تک لاہور کی ماتحت عدلیہ میں کام نہیں ہوا اور ماتحت عدلیہ کے ججوں نے استعفی دینے کا اعلان کردیا تھا۔ لاہور بار کے صدر نے کہا کہ آج سو میں سے تیس کے قریب ججوں نے سیشن جج کے سپرنٹنڈنٹ سے اپنے استعفوں کے کاغذ واپس لیے ہیں۔ ججوں اور پولیس کی طرف سے وکلا ء کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کرائے گۓ۔ صدر لاہور بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ تین مقدمے تو صرف ان کے خلاف درج کرائے گۓ ہیں۔ تاہم ہفتہ کے روز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ افتخار چودھری کی مداخلت کے بعد جج کام پر واپس آگۓ ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||