’کانگریس بھی امن کی حامی تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کی حکومت بھارت میں انتخابی نتائج کا جائزہ لے رہی ہے۔ خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی، جن کا وہ بے حد احترام کرتے ہیں ، ان سے امن مذاکرات کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ ان کے بقول رواں سال چھ جنوری کو جاری کردہ مشرکہ اعلامیہ دونوں ممالک کی خطے میں امن کی خاطر تمام مسائل بشمول کشمیر حل کرنے کی طرف تعمیری سوچ کا مظہر تھا۔ مسٹر قصوری نےکہا کہ اعتماد کی بحالی کے اقدامات اور امن کے لئے جامع مزاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے شیڈول پہلے سے طئے ہے۔ ان کے مطابق پاکستان بھارت میں نئی قائم ہونے والی حکومت سے تمام متنازعہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں اور منتظر ہے ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان اور بھارت کی جانب سے شروع کردہ امن مذاکرات کو دونوں ممالک کی عوام اور سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس پارٹی کی حمایت حاصل رہی ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک جنوبی ایشا میں کم ترقی اور غربت کے چلینجز پر قابو پانے کے لئے قیادت کریں اور علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک، کو آگے بڑھائیں۔ قبل ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کے قائم مقام ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیا جلیل عباس جیلانی کا بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت میں قائم ہونے والی نئی حکومت سے تعاون کرنے کے خواہشمند ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کانگریس کی حکومت بننے سے کیا امن مذاکرات کی رفتار پر فرق نہیں پڑے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے پاکستان سے مذاکرات کا عمل شروع کیا تھا اس کی کانگریس نے اس وقت حمایت کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||