’حکومت بدلنے سے فرق نہیں پڑے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت میں حکومت کی تبدیلی سے امن مزاکرات کی راہ متاثر نہیں ہوگی اور بھارت میں قائم ہونے والی نئی حکومت ، طے کردہ شیڈول کے مطابق بات چیت کو آگے بڑھائے گی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے قائم مقام ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیا جلیل عباس جیلانی کا بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ وہ بھارت میں قائم ہونے والی نئی حکومت سے تعاون کرنے کے خواہاں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کانگریس کی حکومت بننے سے کیا امن مزاکرات کی رفتار پر فرق نہیں پڑے گا؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے پاکستان سے مزاکرات کا عمل شروع کیا تھا اور جو نقش راہ طئے کی تھی اس کی کانگریس نے اس وقت حمایت کی تھی۔ اس ضمن میں جب پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید سے رابطہ کیا گیا تو ان کے بقول وہ ملائیشا میں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر امید ہے کہ بھارت اور پاکستان میں امن مزاکرات کا عمل آگے چلے گا۔ کیونکہ ان کے مطابق مزاکرات کا عمل دو قوموں کے درمیان تھا نہ کہ شخصیتوں کے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||