’سرحد: گندم کی عالمی خریداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نے پنجاب کی جانب سے گندم کی ترسیل پر پابندی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مرکز سے گندم کی قلت پر قابو پانے کے لئے عالمی منڈی سے اسے براہ راست خریدنے کی اجازت کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر صوبہ سرحد کے فلور مل مالکان نے پنجاب حکومت کے فیصلے کے خلاف بدھ سے چار روز کی علامتی ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے۔ جس کے بعد اس کا کہنا ہے کہ مطالبات کے تسلیم نہ ہونے کی صورت میں وہ اٹک کے مقام پر صوبے کو پنجاب سے آٹے کی ترسیل زبردستی بند کرنے کی کوشش کریں گے۔ پنجاب کی جانب سے ایک مرتبہ پھر گندم کی بین الصوبائی تقل و حرکت پر پابندی کے فیصلے نے صوبہ سرحد کی فلور مل انڈسٹری کو غیریقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ سینکڑوں ملیں پہلے ہی بند پڑی ہیں جبکہ چلنے والی تقریبا ڈیڑھ سو کو بھی مستقبل روشن نظر نہیں آرہا ہے۔ صوبائی حکومت نے یکم مئی سے ملوں کو گندم کی ترسیل بند کر دی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم مافیا کا مقابلہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے لگائی گئی گندم کی ترسیل پر پابندی کو صوبہ سرحد کے فلور ملز مالکان بلا جواز قرار دیتے ہیں۔ آل پاکستان فلور ملز ایسوسیشن کے مرکزی چیرمین ملک نیاز کے مطابق اس فیصلے کی واحد وجہ چند لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ ’میں یہ کہنے میں بھی ججھک محسوس نہیں کرتا کہ پنجاب حکومت اپنے چند رفقاء کو غیر قانونی فائدہ دینے کی خاطر یہ پابندی لگا رہی ہے۔ حالانکہ پنجاب میں وافر مقدار میں گندم پیدا ہوئی ہے۔‘ صوبائی حکومت ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی اس مسلے پر واویلا کر رہی ہے لیکن پنجاب میں اب تک اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس وجہ سے گذشتہ دنوں صوبائی حکومت نے پنجاب کو بجلی کی ترسیل بند کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ لیکن منگل کے روز صوبائی وزیر خوراک فضل ربانی نے ایک اخباری کانفرنس میں موقف میں نرمی لاتے ہوئے بجلی کی بندش کی دھمکی تو نہیں دی البتہ بتایا کہ متحدہ مجلس عمل کی قیادت جلد اس پر غور کے لئے ایک اجلاس منعقد کرے گی۔ فضل ربانی کا پبنجاب کے فیصلے کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ آئین کو بلڈوز کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق زرعی اجناس کی بین الصوبائی نقل وحرکت پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے۔ سرحد حکومت نے مرکز سے اس قزیے کے مستقل حل کے لئے اسے بیرون ملک سے گندم براہ راست خریدنے کی اجازت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ البتہ مرکزی حکومت کی کوششیں اور دباؤ بھی فل الحال پنجاب کو اپنے فیصلے میں تبدیلی پر مجبور نہیں کر سکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||