دو بڑی جماعتیں ایک پلیٹ فارم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے اسیر شوہر آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ جاری سال انتخابات کا سال ہے اور انہیں کافی حد تک یقین ہے کہ جنرل مشرف اس سال کے آخر میں اچانک انتخابات کا اعلان کریں گے۔ بدھ کو راولپنڈی کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقعہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز ایک ہی پلیٹ فارم سے لڑیں گی۔ کیونکہ ان کے بقول پاکستان کی ان دونوں بڑی جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور ملک میں جمہوریت کے استحکام کی خاطر اکٹھا ہونا ضروری ہے۔ زرداری کے رواں سال انتخابات کے دعویٰ سے دو دن قبل پاکستان کی اخبارات نے حکمران جماعت چودھری شجاعت سے منسوب یہ خبر شائع کی تھی کہ ملک میں عام انتخابات قبل از وقت بھی ہوسکتے ہیں۔ شہباز شریف کی واپسی کے متعلق سوال پر زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کا شہری ہونے کے ناطے وطن واپس آنا شہباز شریف کا حق ہے جو عدالت نے بھی تسلیم کیا ہے۔ تاہم وہ کہہ رہے تھے کہ وہ تو جیل میں ہیں اور جیل میں شہباز کا خیرمقدم کریں گے۔ فوج کی تعداد میں پچاس ہزار کمی کرنے کے متعلق سوال پر ان کی رائے تھی کہ یہ سب دکھاوا ہے جیسے اکاؤنٹس کی کتاب میں انٹری تبدیل کی جاتی ہے بالکل ویسے ہی جنرل مشرف کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچاس ہزار جو فوجی فارغ ہوں گے ان ہی کو کانٹریکٹ پر بھرتی کرلیا جائے گا اور معاملہ جسیا ہے ویسے ہی رہے گا۔ واضع رہے کہ زرداری پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو بینظیر حکومت ان کی حکومت ختم ہونے کے دن سے مسلسل قید میں ہیں، ان کے خلاف تقریباً ڈیڑھ درجن مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ تا حال انہیں سزا صرف ایک مقدمہ میں ہوئی ہے اور اس سزا کے خلاف بھی ان کی اپیل زیرسماعت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||