BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پگاڑا اور پیپلز پارٹی میں قربتیں

پیر پگاڑا
سانگھڑ ضلع کو پیر پگاڑا کے مریدوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے
سندھ میں دو سیاسی حریف پیپلز پارٹی اور پیر پگاڑا ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں-

اس بات کا واضح اشارہ اس وقت ملا جب پیپلز پارٹی نے ضلع سانگھڑ میں خالی ہونے والے قومی اسمبلی کی نشست پر مسلم لیگ فنکشنل کے مقابلے میں اپنا امیدوار دستبردار کرالیا-

کہا جا رہا ہے کہ اس کے عوض پی پی پی کو ضلع ناظم کا عہدہ دیا جائےگا-

گزشتہ چونتیس سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں فریقین کے درمیاں ایسا کوئی سمجھوتہ ہوا ہو-

پی پی پی اور پگاڑا کی سیاسی مخالفت کی تاریخ بڑی پرانی ہے- ستر کی دہائی کے شروع میں ذوالفقار علی بھٹو پر سانگھڑ میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا- بعد میں بھٹو کے دور میں سات حُروں کے قتل کا واقعہ پیش آیا اور یوں یہ مخالفت بڑھتی گئی -

بھٹو کے ہی دور حکومت میں پہلی بار پیر پگاڑا کو مختصر مدت کے لئےگرفتار کیا گیا تھا- ستر کی دہائی کے آخر میں بھٹو کے خلاف پی این اے نے تحریک چلائی تو پیر پگاڑا اس تحریک کے بڑے ستون تھے-

مخدوم امین فہمیم
اطلاعات کے مطابق پی پی پی کے مرکزی رہنما مخدوم امین فہیم سے بھی مشورہ نہیں لیا گیا
اس کے بعد جتنی بھی حکومتیں بنیں اور جوڑ توڑ ہوئے ان میں پی پی پی ایک طرف ہوتی تو پیر پگارا دوسری طرف چلے جاتے-

لیکن سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں کبھی بھی مستقل نہیں ہوتیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حریفوں کے حالیہ اتحاد کا بظاہر محرک وڈیرے شاہنواز جونیجو سے حکومت اور پیر پگاڑا کی ناراضگی ہے- لیکن پیپلز پارٹی کی جانب سے اس اتحاد میں شامل ہونا خاصا معنی خیز ہے-

شاہنواز جونیجو ایک عرصے تک پی پی پی کے ساتھ منسلک رہے اور اس پلیٹ فارم پر وفاقی وزیر اور سینیٹر بھی رہے-

لیکن گزشتہ بلدیاتی اور عام انتخابات میں انہوں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے پیر پگاڑا کا ساتھ دیا- جس کے بدلے ان کے ایک بیٹے روشن جونیجو کو سانگھڑ کے ضلع ناظم کا عہدہ اور دوسرے بیٹے محمد خان جونیجو کو قومی اسمبلی کی رکنیت مل گئی-

بدقسمتی کہیے کہ محمد خان جونیجو کو الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری پیش کرنے پر نااہل قرار دے دیا- اب یہ ضمنی انتخابات انہیں کی خالی کی گئی نشست پر ہو رہے ہیں جس نے ضلع کے اندر سیاست کا پانسہ پلٹ دیا ہے-

زرداری
خیال کیا جاتا ہے کہ آصف زرداری نے اس مفاہمت میں اہم کردار ادا کیا ہے
پیر پگاڑا اب یہ نشست نہ صرف شاہنواز جونیجو کو دینا نہیں چاہ رہے ہیں بلکہ ان کے ناظم بیٹے روشن جونیجو کی حمایت بھی واپس لینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں- اس مقصد کے لئے وہ پی پی پی سے اتحاد کے لئے بھی تیار ہوگئے ہیں-

پیر پگارا کے پی پی پی سندہ کے صدر نثار کھوڑو کی سربراھی میں پی پی پی کے رہنماؤں سے مذاکرات ہوئے- جس میں یہ طے پایا کہ قومی اسمبلی کی نشست مسلم لیگ فنکشنل کو دی جائے گی اور روشن جونیجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر یہ عہدہ پی پی پی کو دیا جائے گا جس کے لئے ممکنہ امیدوار فداحسین ڈیرو ہیں-

سابق سینیٹر ڈیرو شاہنواز جونیجو کے روایتی حریف ہیں اور ضمنی انتخابات میں پی پی پی کے مضبوط امیدوار تھے- انہیں کی درخواست پر محمد خان جونیجو کو نااھل قرار دیا گیا تھا-

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا- پی پی پی کے فداحسین ڈیرو نے پیر پگارا سے رجوع کیا جبکہ شاہنوازجونیجو نے مخدوم خاندان سے اپنے دیرینہ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئےمخدوم امین فہیم کے ذریعے پی پی پی سے رابطہ کیا-

اس سے پہلے کہ شاہنواز جونیجو اور مخدوم کی کوشش بارآور ہوتیں فدا ڈیرو نے پارٹی کے بااثر افراد کی حمایت حاصل کر لی اور پی پی پی اور پگارا کے درمیاں معاہدہ ہو گیا-

معاہدے کے نتیجے میں قومی اسمبلی کے حلقہ دو سو چھتیس پر پانچوں امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے- جس کے بعد بارہ مئی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پگارا کے امیدوار لیاقت مری کے لئے میدان صاف ہو گیا ہے کیونکہ اب اس کے مقابلے میں کوئی مضبوط امیدوار نہیں ہے-

پارٹی حلقوں کےمطابق یہ فیصلہ آصف زرداری کے مشورے اور ہدایات پر ہوا ہے- اس میں فداحسین ڈیرو اور پارٹی کے ضلعی صدر الطاف رند نے اہم کردار ادا کیا تھا-

بعد کے واقعات سے پتہ چلا کہ اس تمام ’ڈیل‘ میں پارٹی کی قیادت یعنی سندھ کے صدر نثار کھوڑو اور مخدوم امین فہیم کو نہیں لایا گیا-

اس فیصلہ پر ضلع میں پارٹی کارکنوں کے درمیاں خاصی تشویش پیدا ہو گئی- جس کے نتیجے میں پارٹی قیادت نے ضلعی صدر الطاف رند کو عہدے سے معطل کرکے مخدو م امین فہیم کے قریبی سرفراز راجڑ کو ضلعی صدر مقرر کردیا ہے-

اس ڈیل میں پارٹی قیادت کو علیحدہ رکھنے کا اندازہ پارٹی کے صوبائی صدر نثار کھوڑو کے بیان سے بھی ہوتا ہے-

ان کا یہ موقف تھا کہ پیر پگاڑا سے ان کے مذاکرات چل رہے تھے جو ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تھے مگر پہلے ہی ضلع سطح پر ڈیل کی گئی اور ہمارے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے گئے-

انہوں نے کہا کہ معاملات طے ہونے کی صورت میں پی پی پی کے امیدوار ریٹائرڈ بھی ہو سکتے تھے-

آصف زرداری کے مشورہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چاہے کسی کی بھی ہدایات تھیں پارٹی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہئیے تھا-

ضمنی انتخابات کی اس مشق میں پیر پگاڑا اور شاہنواز جونیجو کا اتحاد ٹوٹ گیا ہے اور جونیجو کے پی پی پی میں دوبارہ داخلے کے راستے بھی بند ہوگئے ہیں-

ضلع میں وہ دونوں بااثر گروپوں یعنی پی پی پی اور پیر پگاڑا کی حمایت سے محروم ہوگئے ہیں-

لیکن اس سے بھی بڑی بات دو بڑے حریفوں پی پی پی اور پگاڑا کا ایک دوسرے کے قریب آنا ہے-

یہ بات خاصی عجیب سی ہے کہ پگاڑا ضلع خیرپور میں پی پی پی کی ضلع ناظم نفیسہ شاہ کو ہٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں لیکن سانگھڑ جو بظاہر ان کے مریدوں کا ضلع سمجھا جاتا ہے وہاں ضلع ناظم کا عہدہ پی پی پی کو دے رہے ہیں-

مبصرین ان سوالات کے جوابات ڈھونڈھ رہے ہیں کہ کیا انکی یہ قربت ضلع سانگھڑ کی حد تک رہے گی یا سندھ کی سطح پر اور مجموعی صورتحال میں اس کے مثبت اثرات نظر آئیں گے؟

ضلع خیرپور میں کیا صورتحال بنے گی جہاں پر پی پی پی اور فنکشنل لیگ ضلع حکومت میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد