BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیر پور تنازعہ: ایک ہلاک

ہنگامی آرائی
سندھ کے شہر خیرپور میں دو مذہبی گروہوں کے درمیاں ہونے والے مسلح تصادم کے دوران کالعدم مذہبی تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما علی شیر حیدری کے والد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس افسر سمیت آٹھ افراد زخمی ہو ئے ہیں۔

شہر میں ہنگامہ آرائی اور کشیدگی کے بعد رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے۔

خیرپور شہر کے علاقے لقمان میں واقع ایک پلاٹ پر گزشتہ کچھ عرصے سے دو مذہبی گروہوں کے درمیاں تنازع تھا- ایک فریق کا کہنا تھا کہ یہ پلاٹ آستانے کا ہے جبکہ دوسرا فریق اس پلاٹ پر مدرسہ تعمیر کرنا چاہتا تھا-

شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے چند افراد کے درمیاں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر جمعرات کے روز پولیس متنازع پلاٹ کو سِیل کرنے کے لئے پہنچی تو ملت اسلامیہ پاکستان ( سابقہ سپاہ صحابہ) کے سرپرست اعلی علی شیر حیدری کے والد محمد وارث جانوری کی قیادت میں پچاس کے قریب افراد بھی وہاں پہنچ گئے۔ اس موقع پر فائرنگ کے نتیجے میں مولانا علی شیر حیدری کے والد محمد وارث ہلاک اور علی شیر کے بھائی حافظ علی حیدر سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس کی جانب سے ایس ایچ او بی سیکشن غلام مصطفی راجپوت اور اے ایس آئی لیاقت کاندھڑو زخمی ہوئے ہیں۔ انسپیکٹر راجپوت کو نازک حالت میں کراچی لے جایا گیا ہے جبکہ باقی زخمیوں کو سول اسپتال خیرپور میں داخل کردیا گیا ہے-

واقع کی خبر پھلتے ہی شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ شہر کے مرکزی علاقے پنج ہٹی میں بعض افراد نے ٹائروں کو آگ لگا دی اور قومی شاہراہ بند کردی۔ بنارس کالونی کے علاقے میں دونوں گروہوں کے درمیاں تصادم میں لاٹھیوں اور پتھروں کا استعمال کیا گیا۔ مشتعل ہجوم نے بعض دکانوں کو بھی نقصان بھی پہنچایا- بلآخر پولیس نے آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کرکے صورحال پر قابو پالیا-

بغص افراد نے اعظم کالونی میں نصب بجلی کا ٹرانسفارمر تباہ کردیا جس کے نتیجے میں اعظم کالونی اور لقمان کا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا- تصادم کا مقام ریلوے اسٹیشن کے قریب ہونے کی وجہ سے حکام نے چند گھنٹوں کے لئے ریلوے ٹریفک بھی روک دی-

محمد وارث کی تدفین رات کو متنازع پلاٹ میں ہی کی گئی-

مولانا علی شیر حیدری نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد کی ہلاکت پولیس فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی ہے- ان کا کہنا ہے کہ اس جھگڑے کا مذہبی معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ واقع خالصتاً پلاٹ کی ملکیت پر ہوا ہے۔

مولانا علی شیر حیدری کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز انہوں نے یہ پلاٹ دین محمد شاہ سے ڈھائی لاکھ روپے میں خرید کرلیا تھا اور دین محمد شاہ نے یہ رقم شہر کی ایک مسجد کو بطور عطیہ دے دی تھی۔

پلاٹ پر حالیہ ماہ محرم کے دوران بھی تنازع نے سر اٹھایا تھا تاہم انتظامیہ نے یہ کہہ کر معاملے کو ٹال دیا تھا کہ چہلم کے بعد پلاٹ کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائےگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد