ناظم کو خفیہ رپورٹ کا اختیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ پولس آرڈر میں صدر جنرل پرویز مشرف نے اہم ترامیم کرنے کی منظوری دے دی ہے جس میں ضلعی پولس افسر کی ’اے سی آر‘ لکھنے کا اختیار ضلعی ناظم کو دینے کی ترمیم بھی شامل ہے۔ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے متعلق تعمیر نو بیورو کے چیئرمین دانیال عزیز نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ پولس آرڈر میں صدر نے ترامیم کی منظوری دے دی ہے جس کے مطابق اب ضلعی ناظم کو اختیار ہوگا کہ وہ ضلعی پولس سربراہ کی سالانہ کارکردگی کی خفیہ رپورٹ جسے اے سی آر کہا جاتا ہے لکھے گا۔ واضح رہے کہ اس نقطے پر کئی ماہ سے پولس افسران اور ناظموں میں شدید اختلافات چلے آرہے تھے۔ پولس حکام کی رائے تھی کہ اس سے پولس ناظم کے ماتحت ہو جائے گی اور ناظم اپنے سیاسی مقاصد کی لئے پولس کو استعمال کر سکتا ہے۔ جبکہ ناظمین کی رائے تھی کہ جب امن امان کا ذمہ دار ناظم ہے تو پولس ان کے ماتحت ہونی چاہیے۔ جب سترہویں آئینی ترمیم کا بل منظور ہوا تھا تو دیگر متعدد قوانین سمیت پولس آرڈر کو بھی شیڈول چھ میں ڈال دیا گیا تھا تاکہ صدر کی پیشگی منظوری کے بغیر اس میں ترمیم نہ کی جا سکے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں بدھ کو منعقد کردہ ایک اجلاس جس میں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کے درمیان متنازعہ پولس آرڈر پر رواں سال کے آخر تک عمل درآمد کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ اجلاس میں چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ، چیف سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرل پولس کے علاوہ قومی تعمیر نو بیورو کے چیئرمین سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔ دانیال نے بتایا کہ قومی و صوبائی اراکین اسمبلی بھی ضلعی پبلک سیفٹی کمیشن کے جو کہ پولس پر نظر رکھنے کا ادارہ ہے رکن بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ترمیم کی جائے گی جس کے مطابق ہر ضلعی پبلک سیفٹی کمیشن میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں تین نمائندے نامزد کریں گی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی سطح پر ’پروونشل پبلک سیفٹی کمیشن‘ اور ’پولیس کمپلینٹس اتھارٹی‘ اب علیحدہ علیحدہ ادارے نہیں ہوں گے بلکہ دونوں کو اکٹھا کردیا جائے گا جس کا نیا نام ’پروونشل پبلک سیفٹی اینڈ کمپلینٹس کمیشن‘ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||