’پاکستان میں فوج نہیں بھیجیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن القاعدہ تنظیم کے ان کارکنوں کی گرفتاری کے لئے پاکستانی علاقے میں اپنے فوجی تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ پاکستان علاقے میں چھپے ہوئے ہیں۔ امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان افغانستان میں امریکی سفیر زلمے خلیلزاد کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستانی فوج مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو اتحادی فوجی پاکستان جا کر از خود کارروائی کر سکتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے آنے والا تازہ بیان پیر کے روز زلمے خلیلزاد کے ایک تبصرے کے نتیجے میں پاکستان کے شدید ردِ عمل کے بعد سامنے آیا ہے۔ افغانستان میں متعین امریکی سفیر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ خلیلزاد کا بیان بلا جواز ہے اور شاید وہ اپنے ملک اور اپنی حکومت کے موقف سے بھی آگاہ نہیں ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد نے بھی امریکی سفیر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان افواج ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور ایسا کرنے کے لئے انہوں نے اپنی جانوں تک کی قربانی دی ہے۔ وزیرِ اطلاعات نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور صرف اسی کی فوج افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی علاقے میں مبینہ طور پر چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور غیر ملکی فوج کو پاکستان کی زمین سے کسی کارروائی کی کوئی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ کی حکومت نے پاکستان کی ان کوششوں کی تعریف کی ہے جو وہ قبائلی علاقوں میں ناپسندیدہ عناصر کی سر کوبی کے لئے کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||