’شدت پسند مرنے کیلئے تیار رہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے قبائلی علاقوں میں روپوش مشتبہ شدت پسندوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں، ملک چھوڑ دیں یا مرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ صدر مشرف نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد کے نزدیک قبائلی علاقوں سے عسکریت پسندوں کو نکال باہر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ تنظیم دہشتگردی کو ہوا دے کر اسلام کا نام بدنام کررہی ہے۔ صدر مشرف نے یہ بیان پی ٹی وی کے پروگرام نیوز نائٹ کو ایک انٹرویو کے دوران دیا ہے جو کہ بدھ کی رات نشر کیا جائے گا۔ صدر نے عہد کیا ہے کہ ان افراد سے فوجی طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ ’پہاڑی علاقوں میں چھپے لوگوں سے نمٹنے کے لئے میں فوج اور نیم فوجی اور قبائلی دستے استعمال کروں گا‘۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ صدر مشرف نے جنوبی وزیرستان سے فوجی واپس بلانے کے امکان کو رد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چونکہ شدت پسندوں نے حکومت کی جانب سے معافی کی پیشکش کو رد کردیا ہے چنانچہ ان سے بھرپور قوت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ صدر نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ مذہبی جماعتیں خصوصاً جماعت اسلامی اس آپریشن کی مخالفت کررہی ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ان پر کئے جانے والے قاتلانہ حملوں میں ملوث افراد دنیا میں دیگر مقامات پر دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ’الظواہری کے بیان کے ذریعے یہ لوگ نہ صرف فوج میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے ہیں بلکہ میری حکومت کا تختہ الٹنے کے بھی درپے ہیں‘۔ گزشتہ ہفتہ وزیرستان کے علاقے وانا میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا پہلا مرحلہ مکمل کیا گیا۔ دو ہفتے پر محیط اس آپریشن کے دوران 63 شدت پسند ہلاک اور 166 گرفتار کئے گئے ہیں جبکہ 46 فوجی ہلاک اور 26 کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ تاہم اب تک فوج القاعدہ کے کسی اہم شخص کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||