سرکاری سموسے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن انیس سو بہتر میں فرید احمد ممبئی سے اسلام آباد آئے تھے اور سن انیس سو چوہتر میں انہوں نے اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں ’سندرینا‘ کے نام سے ایک چھوٹی سی دوکان کھولی۔ جہاں وہ سموسے اور چائے فروخت کرتے ہیں۔ تیس برس پہلے کھلنے والی دکان تو آج بھی اُسی حالت میں ہے، البتہ ’سندرینا‘ کے بنے ہوئے سموسوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے دولت خانوں میں بڑی پزیرائی ملی۔ فرید احمد کا کہنا ہے کہ ان کے بنائے ہوئے سموسے وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کی کھانے کی میزوں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ فرید کے مطابق سابق وزیراعظم ’میاں نواز شریف‘ تو ان کے بنائے ہوئے سموسوں کے دلدادہ تھے، وہ اپنے دورِ اقتدار میں جب کبھی اسلام آباد سے لاہور جاتے تو وہ اسلام آباد سے اُنکے بنے ہوئے سموسے ساتھ لے کر جاتے۔ ’سندرینا‘ کی ایک اور خاص بات اس کے اوقات کار ہیں۔ دفاتر کی طرح صبح دس بجے کھلنے والی یہ دوکان سہہ پہر ٹھیک ساڑھے چار بجے بند ہو جاتی ہے۔ فرید احمد کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ کوئی سو درجن کے قریب سموسے فروخت کر لیتے ہیں۔ فرید بھائی کے بنے ہوئے سموسے اب تو اسلام آباد میں اعلٰی مرتبے کی نشانی یا status symbol سمجھے جاتے ہیں۔ نجی محفلوں میں جہاں اور بہت سے کھانے کی اشیاء دسترخواں پر سجتی ہیں وہیں فرید احمد کے بنائے ہوئے سموسوں کو بھی ایک الگ مقام حاصل ہے۔ فرید احمد کا کہنا ہے کہ جب سے اُنہوں نے یہ کام شروع کیا اُس دن سے لے کر آج تک اُن کے معیار میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہاں البتہ اُس وقت یعنی ’سن اُنیس سو چوہتر‘ میں ایک سموسے کی قیمت پچاس پیسے ہوا کرتی تھی لیکن اب وہی سموسہ سات روپے میں بکتا ہے۔ فرید احمد کے بنائے ہوئے سموسوں سے نہ صرف اسلام آباد اور پاکستان میں رہنے والے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ وہ لوگ بھی جو بیرون ملک رہتے ہیں۔ اُن کے رشتے دار یہاں (اسلام آباد) سے اُن کے لئے یہ سموسے بطور سوغات بھیجتے ہیں۔ فرید بھائی کی دوکان پر موجود ایک نوجوان محمد جبران کا کہنا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے تقریباً ہفتے میں تین سے چار دن یہاں ضرور آتے ہیں اور اب تو ان کرارے سموسوں کا چسکا پڑ گیا ہے۔ ’سندرینا‘ پر ہی سموسے خریدنے کے لئے آنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ اُن کا بیٹا لندن میں تعلیم حاصل کرنے گیا ہوا ہے اور وہاں سے اُس نے یہ فرمائش بھیجی ہے کہ وہ اُس کے لیے ’سندرینا‘ کے سموسے بھیجیں، لہذا وہ اُس کی خاطر وہاں آئی ہیں۔ اُنہوں نے ہنستے ہوئے مزید کہا کہ وہ حیران ہیں، کہ دیار غیر میں بچوں کو اپنی ماؤں کے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے یاد آتے ہیں لیکن اُنکے بیٹے کو ’سندرینا‘ کے سموسے ۔۔۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||