لورائی کے مغویان کیسے بازیاب ہوئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برف اور چرواہا۔۔۔۔۔۔۔۔ لورالائی کے پہاڑوں میں پندرہ مغویان کے نہ صرف زندہ رہنے بلکہ بازیابی کا بھی سبب بنے۔ صوبہ پنجاب کے علاقے میلسی کی رہنے والی پچاس برس کی ظہور بی بی کا شمار ان مغویان میں ہوتا ہےجنھیں بلوچستان کے علاقے لورالائی کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ ظہور بی بی کے ساتھ اس کی بیٹی اور ایک آٹھ سالہ بیٹے کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ یہ انتہائی مشکل دور تھا ۔ انھیں بیس سے بائیس گھنٹوں تک پیدل چلایا جاتا تھا اور جب وہ تھک جاتے تو اغوا کنندگان انہیں مارتے بھی تھے۔ موسم سخت سرد تھا برف کھا کر گزارہ کرتے تھے بعض اوقات جسم پر برف جم جاتی تھی۔ یہ برف پانی اور خوراک کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ظہور بی بی نے بتایا کہ اغواکاروں کو خطرے کی اطلاع پہلے ہوجاتی تھی۔ اغوا کار کل دس افراد تھے جن میں سے چھ افراد ہر وقت ان پر پہرہ دیتے رہتےتھے۔
بقول ظہور بی بی ہم’ ان سے معافیاں مانگتے تھے وہ پھر ہمیں دھمکیاں دیتے تھے کہ ہم تمھیں مار دیں گے۔ ایک اغوا کار جسے حاجی کہہ کر پکارتے تھے ان کا سربراہ تھا ہر وقت چوٹی پر کھڑا دور بین سے دیکھتا رہتا تھا۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ فرنٹیئر کور کی گاڑیاں ہمارے سامنے سے گزری ہیں لیکن ہمیں چھپا دیاجاتا تھا‘۔ ظہور بی بی کی بیٹی شمشاد بی بی نے بتایا کہ ان کی شکلیں انتہائی خوفناک تھی بڑی بڑی مونچھیں اور صحیح معنوں میں ڈاکو لگتے تھے ۔ دن کے وقت ہمیں غاروں میں چلاتے تھے اور رات کو پہاڑوں کے اوپر چڑھاتے تھے۔ظہور بی بی نے بتایا کہ ’بازیابی سے ایک روز قبل انھیں خطرے کی اطلاع ملی تو انھوں نے ہمیں پیدل چلایا ۔ اس مقام پر چاروں طرف گاڑیاں پھیل چکی ہیں اس وقت ہم دن اور رات مسلسل چلتے رہے صبح اذان کے وقت ہمیں ایک غار میں چھپایا انھوں نے اپنا اسلحہ بھی چھپا دیا۔ اتنے میں دن چڑھ آیا پیدل چل چل کر ہم بے انتہا تھک چکے تھے۔ اتنے میں ایک چرواہا آیا اس نے ہمیں دیکھا تو اغوا کاروں نے اسے دھمکیاں دیں کہ اپنے جانور یہاں سے لے جاؤ ورنہ تمھاری خیریت نہیں ہے۔
وہ اپنے مویشی ساتھ لے گیا لیکن اغواکاروں کے ایک ساتھی نے اسے کہا کہ ہمارے ساتھ چھوٹے بچے اور خواتین ہیں ہمارے پاس روٹی نہیں ہے اگر کہیں سے ملے تو ہمیں کچھ کھانا لادو اس نے اپنی دو روٹیاں ہمیں دے دیں۔ جس سے ہمیں کچھ تسلی ہوئی۔ اتنے میں دوپہر ہو گئی تو وہ وقت معلوم کرنے لگے۔ ایک ساتھی کو انھوں نے روٹی لینے کے لیے بھیجا ۔ کوئی آدھےگھنٹے کے بعد وہاں شور ہوا کہ راشن کے لیے جانے والا ساتھی گرفتار ہو گیا ہے۔ اوپر سے حاجی نے ایک پہرے دار کو بلایا اور اتنے میں فائر نگ شروع ہو گئی اور ایسی زبردست فائرنگ تھی کہ بم دھماکے بھی ہوئے آدھے گھنٹے تک فائرنگ جاری رہی۔ اس کے بعد اغوا کار فرار ہو گئے۔ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے ہمیں آکر لیا اور گاڑیوں میں بٹھا کر اپنے ہیڈکوارٹر لے گئے‘۔ ظہور بی بی نے کہا کہ چرواہے کے جانے بعد ہمیں رہائی ملی شائد اس چرواہے نے ایف سی کو اطلاع دی جس پر یہ کارروائی کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||