BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 March, 2004, 01:51 GMT 06:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعظم طارق کیس، شیعہ لیڈرگرفتار

News image
گزشتہ سال مولانا اعظم طارق کو اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا تھا
سابق رکن قومی اسمبلی اور شیعہ رہنما امان اللہ سیال کو جمعہ کی صبح لاہور سے گرفتار کرلیا گیا۔

وہ ملت اسلامیہ (کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان) کے صدر اور رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق اور ان کے چار ساتھیوں کے گزشتہ سال سات اکتوبر کو ہونے والے قتل کے تین بڑے نامزد ملزموں میں شامل ہیں۔

لاہور میں پولیس کے افسران اس گرفتاری کے بارے میں خاموش ہیں۔ تاہم گرفتار شیعہ رہنما ساجد نقوی کے دفتر سے ان کے ساتھی غلام رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح لاہور سے امان اللہ سیال کو گرفتار کیا گیا جس کی اطلاع ان کے خاندان نے دفتر کو دی۔

غلام رضا کے مطابق امان اللہ سیال کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے جہاں پر ان کے خلاف مولانا اعظم طارق کے قتل کا مقدمہ درج ہے۔

اس قتل کے دوسرے بڑے ملزم شیعہ رہنما ساجد نقوی پہلے ہی گرفتار ہیں جبکہ تیسرے ملزم مبینہ طور پر سبطین نقوی ملک سے باہر جا چکے ہیں۔

نواب امان اللہ سیال کا تعلق فرقہ وارانہ فسادات کے گڑھ ضلع جھنگ سے ہے اور وہ وہاں کے بڑے زمیندار اور روایتی سیاستدان ہیں۔ وہ انیس سو ستانوے میں جھنگ سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے اڑسٹھ سے آزاد امیدوار منتخب ہوۓ تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد