بھگدڑمیں 5 بچے 8 عورتیں ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے پارا چنار کے ایک امام بار گاہ میں بھگدڑ کے نتیجے میں کم از کم تیرہ شیعہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں آٹھ عورتیں اور پانچ بچے شامل ہیں۔ امام بارگاہ کے منتظم نوروز خان نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ بھگدڑ بجلی کے نظام میں خرابی کی وجہ سے اس وقت مچی جب سینکڑوں عورتیں اور بچے عاشورہ کے سلسلے میں امام بارگاہ میں جمع تھے۔ ’رات کے وقت بجلی کے بورڈ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی اور بجلی چلی گئی۔ امام بارگاہ میں موجود عورتیں بوکھلا کے امام بارگاہ سے باہر بھاگیں، جس کے نتیجے بھگ دڑ مچ گئی اور نو عورتوں اور دو بچوں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہوگئے۔‘ ڈاکٹر امجد حسین کا کہنا ہے کہ اس بھگدڑ میں چھپن افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی کا نظام معطل ہونے سے امام بارگاہ میں موجود خواتین خوفزدہ ہوگئیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ کوئی بیرونی حملہ ہے۔ اسی خدشے کے تحت دو منزلہ عمارت سے باہر نکلنے کی کوشش میں عمارت کا زینہ ٹوٹ گیا اور زبردست بھگدڑ مچ گئی۔ حادثے کے وقت امام بارگاہ میں پندرہ سو عورتیں موجود تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||