مشرف نے تحقیقات کا حکم دے دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے ہفتے کے روز جنوبی وزیرستان میں اس فوجی آپریشن کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جس میں گیارہ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے تھے۔ قبائلی علاقہ جات کے وزیر آفتاب شیرپاؤ نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے احکامات کے مطابق یہ تحقیقات ایک ہفتے کے اندر مکمل کر کے اس کی رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔ اس سے قبل مقامی حکام اور سرحد کے گورنر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سید افتخار حسین شاہ نے بھی تحقیقات کا حکم دیا تاہم ان تحقیقات کو مکمل کرنے کے لئے انہوں نے دس دن کا وقت دیا تھا تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تحقیقات کون کرے گا۔ آفتاب شیر پاؤ نے ان تمام اندازوں کی تردید کی کہ ہلاک و زخمی ہونے والے عام شہری تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا مقصد ہی یہ معلوم کرنا ہے کہ اس واقعے کی وجوہات کیا ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ نے اقرار کیا کہ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں کچھ پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ پشاور میں ہمارے نمائندے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چھ افغانی جبکہ پانچ پاکستانی باشندے شامل تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||