الزواہری کے بیٹے: انکار نہ اقرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان سے گرفتار کئے جانے والے بیس سے زائد افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے جس کے بعد ہی ان کی اصل قومیت یا اہمیت کا اندازہ ہوسکے گا۔ پاکستانی فوج کی تعلقات عامہ کے شعبے کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ تفصیلی تحقیقات میں وقت لگے گا جس کے بعد ہی کوئی بات یقینی طور پر کہی جا سکے گی۔ انہوں نے ان اخباری اطلاعات کے جواب میں کچھ کہنے سے گریز کیا کہ صدر مقام وانا کے قریب کی گئی تازہ کاروائی میں اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الزواہری کے بیٹے بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار کئے گئے افراد سے تفصیلی پوچھ گچھ کے بعد ہی ان کے نام اور شناخت ظاہر کی جاسکے گی۔ انہوں نے بھی ایمن الزواہری کے بیٹے کی گرفتاری کے امکان کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔ فیصل صالح حیات کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں وقت لگےگا کیونکہ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک خبر کے حوالے سے انہوں نے اس امر کی بھی تردید کی کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور پاکستانی آئی ایس آئی باہمی اشتراک سے کارروائی کررہے ہیں۔ ان علاقوں میں کسی کی اصل قومیت معلوم کرنا انتہائی مشکل کام ثابت ہوا ہے۔ ہر ایک نے کئی کئی ممالک کی شہریت کے کاغذات بنا رکھے ہیں۔ کسی دوست ملک کی حکومت کو ناراض کرنے یا غلط معلومات کی بنیاد پر کسی گرفتار شخص کو کسی دوسرے ملک کا باشندہ ظاہر کرنے سے بچنے کی خاطر حکام احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ لیکن فوجی ترجمان کی یہ بات کافی معنی خیز ہے کہ معلوم ہونے پر بھی وہ یہ معلومات اس لئے ظاہر نہیں کریں گے کہ اس سے مستقبل کی کاروائیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انگور اڈہ کے علاقے میں گزشتہ برس ہونی والے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والوں کے بارے میں بھی خبریں کئی ماہ بعد دسمبر اور جنوری میں سامنے آئی تھیں۔ اس بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کے ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد ہی اس بات کی تصدیق ہوسکی تھی کہ وہ کون لوگ ہیں۔ حکام کی جانب سے اس تازہ کاروائی میں گرفتار افراد کے بارے میں معلومات عام کرنے تک توقع ہے کہ قیاس آرائیوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ جنوبی وزیرستان کے پہاڑی علاقے ژڑی لیٹا میں کی گئی اس تازہ کاروائی سے البتہ ایک بات ظاہر ہوئی ہے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی حکام کے ہاتھ وہ افراد نہیں لگے جنہوں نے ان غیرملکیوں کو پناہ دے رکھی تھی۔ عبداللہ عرف گلئی، نور محمد اور عبدالحئی کے مکانات تو قبائلی روایات کے تحت مسمار کر دیے گئے لیکن انہیں پکڑا نہیں جا سکا۔ حکام اس سے قبل بھی ایسے اسی سے زائد افراد کی فہرست قبائل کے حوالے کر چکے ہیں تاکہ انہیں تفتیش کے لئے حکومت کے حوالے کیا جا سکے لیکن اب تک حکومت کو ان میں سے صرف نصف لوگ ہی حاصل ہو سکے ہیں۔ اور کئی مبصرین کے خیال میں وہ بھی اتنے اہم نہیں۔ ماہرین کے خیال میں اب حکومت کو ان قبائلیوں سے ڈیل کرنے کے لئے نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ منگل کو القاعدہ کے خلاف کاروائی کی وجہ سے جنوبی وزیرستان ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا۔اس علاقے میں پاکستانی فوج کی یہ چوتھی کاروائی ہے جس میں اب تک اسے سولہ جانوں کا نقصعان اٹھانا پڑا ہے۔ مبصرین کے خیال میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع اس ایجنسی میں حالات قدرے مختلف ہیں۔ البتہ دینی جماعتیں اب بھی ان علاقوں میں غیرملکیوں کی موجوگی سے انکار کرتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کاروائی کے دوران جو چند غیرملکی خواتین حراست میں لی گئی تھیں انہیں قبائلی دباؤ کے تحت بعد میں رہا کر دیا گیا ہے اس وعدے پر کہ ضرورت پڑنے پر انہیں پوچھ گچھ کے لئے دوبارہ طلب کیا جا سکتا ہے۔
ماضی کی کاروائیوں سے یہ تازہ آپریشن اس اعتبار سے مختلف تھا کہ اس میں گولیوں کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا اور یہ مقامی قبائلی رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے بعد کی گئی۔ ایک اور فرق پچھلے آپریشن کے خاتمے پر فوجی اور قبائلی حکام کے بیانات میں تضاد تھا جبکہ اس مرتبہ یہ فرق نئی کاروائی کے آغاز پر سامنے آیا۔ فوجی حکام کسی بھی نئی کاروائی سے آخری لمحات تک انکار کرتے رہے جبکہ وزیرستان کی انتظامیہ اس کے کسی بھی وقت شروع ہونے کا عندیہ دیتی رہی۔ اگر تو اس کا مقصد اس کاروائی کو چھپانا تھا تو حکومت اس میں بری طرح ناکام رہی۔ فوجی ہیلی کاپٹروں کے واپس چلے جانے کے علاوہ زمین پر جو نئی فوجی نفری تعینات ہوئی تھی اسے بھی ہٹا لیا گیا۔ جس کا مطلب ہے کہ ابھی کسی نئی کاروائی کا فل الحال امکان نہیں۔ ادھر اس علاقے کی کئی قبائلی اور دینی جماعتوں کے رہنما کسی غیرملکی کی گرفتاری کے دعویٰ کی تردید کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سربراہ اور متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما قاضی حسین کا کہنا ہے کہ غیرملکیوں کی گرفتاری کے سرکاری دعویٰ میں صداقت نہیں۔ پشاور میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ان کاروائیوں سے قبائلیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور اس کے نتائج ملک کے لئے اچھے ثابت نہیں ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||