BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 February, 2004, 00:48 GMT 05:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت: ایٹمی بنکرز کی تعمیر
بنکرز
بھارت پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ کسی بھی جوہری خطرے سے نبٹنے کے لیے بڑے بڑے نیوکلیئر بنکرز اور نیوکلیئر پناہ گاہیں تعمیر کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

ان بنکرز کو جنھیں ’نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول پوسٹ‘ کا نام دیا جا رہا ہے ایٹمی جنگ کے علاوہ کسی بھی روائیتی جنگ میں استعمال کئے جا سکیں گے۔

بھارت کے ممتاز دفاعی تجزیہ نگار راہول بیدی نے بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان بنکروں کی تعمیر کے لیے گزشتہ چار پانچ سال سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

تاہم دفاعی امور سے متعلق ایک امریکی ادارے ’اسٹریٹجک فورکاسٹ‘ کے مطابق ٹاس ہٹاچی نامی ایک جاپانی کمپنی ان منظم مورچوں کے نقشے بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

راہول بیدی نے کہا کہ یہ بنکرز یا مورچے ایٹمی حملے یا دھماکے کی صورت میں فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام کو درھم برھم نہیں ہونے دیں گے اور ان سے مواصلات کا نظام محفوظ رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکے کی صورت میں سب سے پہلے مواصلات کا نظام درھم برھم ہوجاتا ہے لیکن ان بنکرز کی موجودگی میں یہ نطام محفوظ رہے گا اور معمول کے مطابق کام کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا ان بنکرز کی افادیت روائتی جنگ میں بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی اور یہ کسی بھی روائتی جنگ میں فوج کے لیے بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان بنکرز کی تعمیر پر ہونے والے اخراجات کے پیش نظر یہ بنکرز صرف چند جگہوں پر بنائے جائیں گے اور ان کو انتہائی خفیہ رکھا جائے گا۔

ان بنکرز کے علاوہ بھارت ایٹمی جنگ کی صورت میں فوج کو پناہ فراہم کرنے کے لیے ’نیوکلیئر شیلٹرز‘ کے منصوبے پر بھی کام کررہا ہے۔

راہول بیدی نے کہا کہ یہ نیوکلیئر شیلٹرز فوج کو عارضی پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے بنائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پناہ گاہ ایک بہت بڑے تمبو کی طرح ہوں گی۔ ان تمبوں میں فوجی دس سے پندرہ دن تک رہ سکیں گے اور انہیں باہر جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ان تمبوں میں فوجیوں کو خوارک کے علاوہ دس سے پندرہ دن تک زندہ رہنے کے لیے آکسیجن مہیا کرنے کا بھی انتظام ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد