BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 February, 2004, 17:52 GMT 22:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوئی پر راکٹوں سے یلغار

قانون نافذ کرنے والے ادارے فرنٹیئر کور کے اہلکار
قانون نافذ کرنے والے ادارے فرنٹیئر کور کے اہلکار
بلوچستان کے علاقے سوئی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سےجمعرات کو چھاونی کے مجوزہ علاقے میں بعض گھر مسمار کیے جانے کے بعد جمعہ کی شب لگ بھگ بارہ راکٹ داغےگئے ہیں تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ان راکٹوں کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے ادارے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے ہوا میں گولیاں چلائیں مگر اس سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سوئی میں چھاونی قائم کیے جانے کے لیے مجوزہ علاقے میں جمعرات کو بعض گھر مسمار کیے تھے جس کے بعد سے ہی اس علاقے میں کشیدگی موجود تھی۔

پولیس کے مطابق سنیچر اور جمعہ کی درمیانی رات محتلف مقامات سے راکٹ داغے گئے۔

ان میں سے کچھ راکٹ گیس کمپریشن پلانٹ اور فرنٹیئر کور کے ’بھمبھور رائفل‘ کے ہیڈکوارٹرز کے قریب گرے۔

جواب میں ایف سی کے اہلکاروں نے ہوا میں گولیاں چلائیں اور علاقے میں دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں دور دور تک سنائی دیتی رہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات صرف چھ راکٹ داغے گئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

علاقے کے بعض معززین نے جمعے کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ فرنٹیئر کور نے سوئی میں چھاونی کے قیام کے لیے مجوزہ زمین پر بنے گھر مسمار کیے ہیں۔

معززین علاقہ کا کہنا تھا کہ یہ زمینیں بگٹی اقوام کی ہیں اور انہیں ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

اتحاد برائے بحالئی جمہوریت (اے آر ڈی) کے صوبائی قائدین نے بھی صوبے میں جاری اپنی احتجاجی تحریک میں چھاؤنی کے قیام کی مخالفت کی ہے۔

یہ مجوزہ چھاؤنیاں سوئی، کوہلو اور گوادر میں قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی نے ان چھاؤنیوں کے قیام کے سلسلے میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جس میں چھاؤنیوں کے قیام کی سختی سے مخالفت کی گئی ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے علاوہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے بھی بارہا کہا ہے کہ قرارداد کی منظوری کے باوجود چھاؤنیاں قائم ہوں گی اور ان کا قیام کوئی بھی نہیں روک سکتا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد