’مرغی کھاؤ، کچھ نہیں ہوتا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پولٹرری فارمز مالکان لوگوں میں مرغی کے گوشت سے گریز کو کم کرنے کے لئے مختلف شہروں میں مظاہرے کر رہے ہیں جن میں عمائدین شہر کو مدعو کیا جاتا جو لوگوں کے سامنے مرغی کا گوشت کھاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان میں مرغی کے زکام یا برڈ فلو کی وجہ سے لوگوں نے مرغی کا گوشت کھانا ترک کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کاروبار سے وابستہ افراد کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پولٹری فارمز مالکان کا موقف ہے کہ پاکستان میں مرغیاں برڈ فلو سے محفوظ ہیں۔ کراچی میں ناظم شہر نعمت اللہ سمیت کئی ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی نے باغ قائداعظم میں لوگوں کے ساتھ مرغی کا سالن اور انڈے کھائے۔ اسی طرح سندھ کے دوسرے شہروں میں عوامی کھانوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ صوبہ سرحد میں پولٹری فارمز مالکان کا کہنا ہے کہ صوبہ میں برڈ فلو کا کوئی مسلہ نہیں البتہ اس وباء کے بارے میں خبریں سامنے آنے سے لوگوں نے مرغی خوری کم کر دی ہے جس سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اسی تاثر کے خاتمے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کی خاطر سرحد پولٹری فامز ایسوسی ایشن کے عہدیداوں نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس منعقد کی۔ اس موقعے پر پولٹری کے ماہرین بھی موجود تھے جنہوں نے کہا کہ سرحد میں اس بیماری کے ابھی کوئی شواہد نہیں ملے ہیں اور مرغی انسانوں کے لئے کسی بھی طرح مضر صحت نہیں۔ یہ بتانے کے لئے کہ یہاں کوئی بیماری نہیں اخباری کانفرنس کے بعد صحافیوں کی بھی روسٹ مرغیوں سے تواضع کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||