کشمیر کافیصلہ ہونے والا ہے:مبشر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہندوستان عوامی فوم برائے امن و جمہوریت کے رہنما ڈاکٹر مبشر حسن نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا فیصلہ ہونے والا ہے اور انہیں خوشی ہے کہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے بات چیت کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس مسئلہ پر یہ دونوں ملک ہی فریق نہیں بلکہ سب سے اہم فریق کشمیری ہیں۔ فورم کے تحت سنیچر کو لاہور میں ایک جلوس نکالا گیا جو ٹمپل روڈ میں فورم کے دفتر سے شروع ہوکر ریگل چوک پر ختم ہوا جہاں فورم کے رہنماؤں نے تقریریں کیں۔ جلوس کے شرکاء نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر یہ نعرے لکھے تھے۔ ’انڈیا پاکستان دوستی زندہ باد، جنگ نہیں امن چاہیے، بم نہیں روٹی چاہیے، کشمیر کا حل کشمیریوں کی مرضی کے مطابق اور کشمیریوں کو پاسپورٹ اور ویزے جاری کیے جائیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدہ ہیں لیکن مسئلہ کا حل کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے ورنہ قابل قبول نہ ہوگا کیونکہ اگر کشمیر کا حل صرف ہندوستان اور پاکستان نے کیا تو یہ کشمیریوں کو منظور نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیری دونوں ملکوں پر اعتماد نہیں کررہے اس لئے کہ دونوں نے کشمیریوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں ملک اپنی پالیسیوں کو تبدیل کریں۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے کہا کہ ایسے وقت میں جب امن کی باتیں ہورہی ہیں اور دونوں ملک مذاکرات کی میز پر ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہزاروں کشمیری جیلوں میں ہیں اور انہیں ملک سے باہر نکلنے نہیں دیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے راستے کھولیں جائیں اور کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان سے تجارت کی اجازت دی جاۓ۔ عوامی فورم کے رہنما نے کہا کہ لاپتہ کشمیریوں کا پتہ چلایا جائے اور کشمیریوں کا جتنا نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سترہ فروری کے ہندوستان اور پاکستان کے مذاکرات میں کشمیر کو ایجنڈے میں شامل ہونا چاہیے اور اس سے پہلے دونوں ملکوں کے سیاسی لیڈروں اور عوام کو ایک دوسرے کےہاں آنے جانے کی اجازت دی جاۓ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||