| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حبسِ بے جا: بند کمرے میں سماعت
بدھ کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پا کستان کے جوہری پروگرام کہوٹہ میں کام کرنے والے سات اشخاص کی جس بے جا کی درخواست کی سماعت جج کے چیمبر میں کی۔ اس بند اجلاس میں درخواست گزاروں کے وکلاء کے علاوہ کسی اور شخص کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ چیمبر میں سماعت کا فیصلہ منگل کے روز عدالت میں ہونے والے جھگڑے کے پیش نظر کیا گیا۔ درخواست گزاروں کے وکلاء چوہدری اکرام ، بیرسٹر طارق کھوکھر اور شاہ خاور کے مطابق حکومت کے وکیل ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود نے عدالت میں کہا کہ جوہری سائنسدانوں اور دوسرے لوگوں کو پاکستان آرمی آیکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے لیے کسی عدالتی وارنٹ کی یا مقدمہ درج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس پر جسٹس مولوی انوارالحق نے سرکاری وکیل سے استسفار کیا کہ کیا یہ حکومت کا موقف ہے کہ کے آر ایل کے اہلکاروں کو آرمی ایکٹ کے تحت گرفتار گیا ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر حکومت ایک پنڈورہ باکس کھول رہی ہے۔ عدالت نے حکومت کے وکیل کو خبردار کیا کہ وہ سوچ سمجھ کر بیان دے۔ اس موقع پر حکومت کے دوسرے وکیل طارق شمیم نےعدالت سے کہا کہ حکومت کا موقف ہرگز یہ نہیں ہے کہ کے آر ایل میں کام کرنے والے لوگوں کو آرمی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ طارق شمیم نے عدالت سے پھر استدعا کی حکومت کو اپنا بیان عدالت میں پیش کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے تاکہ وہ اپنا تفصلی بیان دے سکے۔ طارق شمیم نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جوہری سائنسدانوں اور تحویل میں لیے گۓ دوسرے اشخاص کے خلاف ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حکومت چا ھتی ہے کہ اگر زیر تفتیش اہلکاروں میں سے کوئی بے گناہ ہے تو وہ واپس اپنی جاب پر چلا جائے اور اگر کیس درج کر کے تحقیات کی گئیں تو پھر بے قصور شخص بھی واپس اپنی جاب پر نہیں جا سکے گا۔ حکومت کے وکیل کے مطابق ملک کے جوہری پروگرام میں کام کرنے والے اشخاص کو بہت ہی سخت کلیئرنس کے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کسی پر ذرا سا شک بھی ہو تو ایسے شخص کو جوہری پروگرام میں کام کی اجازت نہیں دی جاتی بے شک اس کو بری الذمہ ہی کیوں نہ قرار دے دیا گیا ہو۔ درخواست گزاروں کے ایک وکیل بیرسٹر طارق کھوکھر نے عدالت سے کہا کہ عدالت کے بارہا احکامات کے کے باوجود ابھی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا ہے اور عدالت کو چاھیے کہ حکومت کو توھین عدالت کا نوٹس جاری کرے۔ انہوں نے عدالت سےکہا اب حکومت کے اقرار کہ درخواست گزاروں کے عزیز و اقارب اس کی تحویل میں ھیں لیکن ان کے خلاف ابھی تک کوئی مقدمہ درج بھی نہیں کیا گیا ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ عدالت محبوس اہلکاروں کی بر آمدگی کے لیے آرڈر جاری کرے۔ جسٹس انوار الحق نے کہا کہ حکومت کے وکیل عدالت کے سامنے زبانی باتیں کر رہے ھیں لیکن چند لائنیں لکھ دینے سے گریزاں ہیں۔ عدالت نے حکومت کے وکیل کی اس درخواست کو نہیں مانا کہ سماعت چھ فروری تک ملتوی کر دی جائےاور اسے جمعہ تک ملتوی کرتےہوئے حکومت کو ایک موقع دیا کہ اپنا موقف عدالت میں پیش کرے۔ کے آر ایل کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ سات لوگوں کی درخواستوں پر عدالت نے حکومت کو حکم جاری کر رکھا ہے کہ ان میں سے کسی کوبھی عدالت کے دائرہ کار سے باہر نہ لے جایا جائے۔ کے آر ایل کے اہلکاروں کے علاوہ بھی کافی لوگ عدالت کی کارروائی دیکھنے کے لیے صج نو بجے سے لے کر دو بجے دوپہر تک عدالت کے احاطے میں موجود رہے۔ ان میں کافی لوگوں نے اپنے سینوں پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تصویر والے بیجز لگا رکھے تھا۔ پاکستان جوہری پروگرام کے جن لوگوں کے لواحقین نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے ان میں ، محمد فاروق (ڈائریکٹر جنرل)، میجر اسلام الحق ( ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پرنسپل سٹاف افسر) ، برگیڈیئر سجاول (سابقہ ڈائریکٹر جنرل سروسز ڈویژن کے آر ایل)، ڈاکٹر عبدالمجید (موجودہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس ڈیپارٹمنٹ)، نسیم الدین (سربراہ میزائل مینوفیکچرنگ ڈویژن)، ڈاکٹر منصور احمد (سابقہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس) برگیڈیر محمد اقبال تاجور (سابقہ ڈائریکٹر جنرل سکیورٹی کہوٹہ)، ڈاکٹر نذیر احمد (موجودہ چیف انجنیئر میٹلجرک ڈیپارٹمنٹ کہوٹہ) شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||