’لگتا ہے بہت مال بنا لیا ہے ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ جہاں پاکستان کے جوہری پروگرام کہوٹہ میں کام کرنے والے سات افراد کے اہل خانہ نے حبس بے جا کی درخواست دائر کر رکھی ہے، سماعت کے دوران جھگڑا ہونے کے بعد عدالت نے سماعت ایک دن کے لئے ملتوی کر دی۔ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب حکومت کے وکیل نے کہا کہ تحویل میں لیے گئے افراد کے خلاف اب تک کوئی کیس درج نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حکومت چا ہتی ہے کہ زیر تفتیش افراد میں سے جو بھی بے گناہ ہو وہ واپس اپنی ملازمت پر چلا جائے۔ کیونکہ اگر کیس درج کر کے تحقیقات کی گئی تو پھر بے قصور شخص بھی واپس اپنی جاب پر نہیں جا سکے گا۔ اس موقع پر حراست میں لیے گئے اہلکاروں کے ایک کے عزیز نے بلند آواز میں کہا کہ ان کو نوکری نہیں بلکہ اپنے عزیز چاہئیں۔ اس پر سرکاری وکیل طارق شمیم نے جواب دیا: ’لگتا ہے آپ نے بہت مال بنا لیا ہے اس لئے آپ کو نوکری کی ضرورت نہیں ہے۔‘ اس کے بعد کمرہ عدالت جو حراست میں لیے گۓ اہلکاروں کے عزیز و اقارب اور وکیلوں سے بھرا ہوا تھا شیم شیم کے نعروں سے گونج اٹھا جس پر جسٹس مولوی انوارالحق نے عدالت برخاست کر دی اور کہا کہ ان حالات میں ان کے لیے کام کرنا مشکل ہے۔ اس کے بعد جب درخواست گزاروں کے وکیلوں نے جج کے چیمبر میں جا کر درخواست کی کہ سماعت دوبارہ شروع کی جائے تو جج نے کہا کہ اس کیس کی سماعت بدھ کے روز ہو گی۔ حکومت کے وکیل نے منگل کو بھی عدالت میں کوئی رپورٹ داخل نہیں کی اور عدالت سے درخواست کی کہ اس حساس معاملے کی تحقیقات کے لئے حکومت کو مزید وقت درکار ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ اب چند دنوں کی بات ہے، جو قصور وار نہیں ہوگا وہ گھر چلا جائے گا اور جس نے غلط کام کیے ہیں اس کے خلاف مقدمہ درج ہو جائے گا اور قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔ خان ریسرچ لیبارٹریز کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ آٹھ لوگوں کے عزيز و اقارب نے حبس بے جا کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جس میں انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ان کے لواحقین کو امریکی ادارے، ایف بی آئی یا کسی اور امریکی ایجنسی کے حوالے کر دیا جائے گا۔ درخواست گزاروں کے ایک وکیل چوہدری اکرام نے کہا کہ یہ سب کچھ جنرل مشرف اپنی غیر قانونی حکمرانی کو بچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ آج پاکستان فوج کے جرنیلوں کے اکڑ کر چلنے کی وجہ ملک کا جوہری پروگرام ہے جس کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں جن کو حراساں کیا جا رہا ہے۔ اور ان کے رفقاء کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ’منتخب صدر اور پاکستان کی محافظ فوج کے بارے میں کوئی ریمارکس نہ دیۓ جائیں‘۔ حکومت کے وکیل نے یہ بھی استدعا کی کہ اگر عدالت اس مقدمے کو سننا چاہتی ہے تو پھر اس کو بند کمرے میں (اِن کیمرہ) سماعت کرنی چاھیۓ۔ پاکستان جوہری پروگرام کے جن لوگوں کے لواحقین نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے ان میں ، محمد فاروق (ڈائریکٹر جنرل)، میجر اسلام الحق ( ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پرنسپل سٹاف افسر) ، برگیڈیئر سجاول (سابقہ ڈائریکٹر جنرل سروسز ڈویژن کے آر ایل)، ڈاکٹر عبدالمجید (موجودہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس ڈیپارٹمنٹ)، نسیم الدین (سربراہ میزائل مینوفیکچرنگ ڈویژن)، ڈاکٹر منصور احمد (سابقہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس) برگیڈیر محمد اقبال تاجور (سابقہ ڈائریکٹر جنرل سکیورٹی کہوٹہ)، ڈاکٹر نذیر احمد (موجودہ چیف انجنیئر میٹلجرک ڈیپارٹمنٹ کہوٹہ) شامل ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر منصور احمد کو رہا کیا جا چکا ہے، جس کی تصدیق ان کے وکیل بیرسٹر طارق کھوکھر نے بھی کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||