| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
احتجاج پر جرنیل چھڑیاں ہلاتے رہے
صدر جنرل پرویز مشرف سنیچر کے روز جب پہلی بار پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لئے آئے تو یہ کسی ملکی سیاسی فورم پر بغیر وردی کے تقریر کرنے کا پہلے موقع تھا۔ ان کی سفید شیروانی کلف لگی ہوئی تو نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ اکڑی ہوئی ایسی تھی کہ لگ رہا تھا کہ انہوں نے شاید اس کے نیچے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی ہوـ مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ دیر سے جب وہ ایوان میں نمودار ہوئے تو اے آر ڈی کے ارکان نے شیم شیم اور نو نو کے نعرے لگائے لیکن قومی ترانے کی دھن سن کر سب خاموشی سےکھڑے ہوگئے۔ سپیکر کی دائیں جانب گیلری میں بیگم صہبا مشرف کے ساتھ گورنروں اور وزرائے اعلٰی کی بیگمات بیٹھی تھیں جبکہ بائیں جانب چیف الیکشن کمشنر، چاروں گورنر اور چاروں صوبوں کے وزراعلیٰ براجمان تھے۔
فوجی سربراہان کی گیلری میں جنرل عزیز، جنرل یوسف، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان اور دیگر حکام بیٹھے تھے۔ جنرل عزیز خان اور جنرل یوسف اپنی اپنی چھڑیاں بھی ہلارہے تھے۔ ماضی میں صدارتی خطاب کے دوران فاروق لغاری کو چوڑیاں پیش کرنے والی تہمینہ دولتانہ کی کمی مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر سعدیہ عباسی اور پیپلزپارٹی کی رکن اسبملی ناہید خان نے کسی حد تک پوری کی۔ البتہ اگر تہمینہ ہوتیں تو شاید تماشہ کچھ اور ہوتا۔ تہمینہ دولتانہ لاہور سے جس جہاز میں اسلام آباد آرہی تھی اس کو اسلام آباد کے بجائے پشاور بھیج دیا گیا جس کا سبب وزیراعظم جمالی نے موسم کی خرابی بتایا۔ پارلیمنٹ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کررکھی تھیں اور سٹیکرز لگی گاڑیوں کے علاوہ کسی کو پارلیمنٹ کی جانب جانے نہیں دیا جارہا تھا ـ غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے پیش نظر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ـ ایوان میں اے آر ڈی اور پونم کے ارکان حزب اختلاف کی نشستوں پر پہلے سے بیٹھ گئے تھے جبکہ متحدہ مجلس عمل کے ارکان مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں آخر میں آئے اور پچھلی نشستوں پر براجمان رہےـ
عبدالستارلالیکا جو کہ چیف وھپ بھی ہیں انہوں نے ناہید خان کو روکنے کیلئے پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت انکے قریب سرکاری نشستوں پر مسلم لیگی خواتین نیلوفربختیار، سینیٹر گلشن سعید اور دیگر کو بٹھا رکھا تھا اور انہیں بار بار ہدایات بھی دے رہے تھے۔ صدر کا خطاب شروع ہونے سے قبل مولانا فضل الرحمان نے نکتہ اعتراض پر بولنا چاہا لیکن سپیکر نے انہیں اجازت نہ دی اور جیسے ہی جنرل پرویز خطاب کیلئے ڈائس پر آئے تو حزب اختلاف کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور گو مشرف گو، نو مشرف نو کے زوردار نعرے لگاتے ہوئے سیاہ جھنڈیاں لہرائیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان نے بینظیر بھٹو کی رنگین اور آصف زرداری کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر جنرل کو دکھا دکھا کر لہرائیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے بعض ارکان کے ہاتھ میں ہرے رنگ کے جھنڈے جن پر نواز شریف اور قائد اعظم کی تصاویر تھیں لہرائے۔ ایوان میں شور کی وجہ سے صدر کی چھ صفحات کی اردو کی تقریر کسی کو سمجھ میں نہیں آئی اور حزب اقتدار کے ارکان نے ہیڈفون لگاکر تقریر سنی اور بارہا صدر کو داد دینے کیلئے زورسے ڈیسک بھی بجائےـ بعض نازک مزاج اور بزرگ خواتین بھی زور زور سے ڈیسک بجارہی تھیں۔ چند منٹوں بعد ایم ایم اے کے ارکان اے آر ڈی کے ہمراہ کھڑے ہوگئے اور خاموش احتجاج کے بعد بائیکاٹ کرکے باہر چلے گئے تاہم اے آرڈی اور پونم والے نشستوں پر ہی احتجاج کرتے رہےـ ایوان ’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘، ’جنرل کرنل کی سرکار نہیں چلے گی‘، ’میرے مولا دے دے آزادی‘،ـ ’قوم مانگے آزادی‘، ’جو آئین کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے‘، ’آمریت مردہ باد‘، ’گو مشرف گو‘، ’نو مشرف نو‘، اور ’نو ڈکٹیٹرنو‘، کے نعروں سے گونجتا رہا۔ اس موقع پر قومی اسمبلی ہال ایک جلسہ گاہ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ ’جو جنرل کا یار ہے وہ قوم کا غدار ہے‘ کے نعروں پر ہال میں موجود جرنیلوں سمیت اکثر لوگوں کا دھیان صدر کی تقریر (جو کہ سنائی نہیں دے رہی تھی) پر کم اور حزب اختلاف کے نعروں پر زیادہ تھا۔ جنرل عزیز اور جنرل یوسف تو ایک موقع پر چھڑی ہلاکر مسکرا بھی رہےتھے۔ جوں ہی صدر کی تقریر ختم ہوئی تو ناہید خان اپنے میاں صفدر عباسی کے ہمراہ نشست چھوڑ کر صدر کے سامنے روسٹرم کے آگے جانے لگی تو پہلے سے تیار مسلم لیگی خواتین نیلوفر بختیار جو کہ وزیراعظم کی مشیر برائے خواتین کی ترقی ہیں وہ اور سینیٹر گلشن سعید نے ناہید خان کو بازو سے پکڑلیا۔
ناہید نے نیلوفر کو دھکا دیا اور سیاہ جھنڈی میں لگی ڈنڈی نکال کر گلشن سعید کی بازو پر دے ماری اور روسٹرم کے آگے جنرل کے سامنے بینظیر کی تصویر لہرانے میں کامیاب ہوگئیں۔ تاہم دیکھتے ہی دیکھتے سرکاری ارکان نے انکو گھیر لیا۔ اے آر ڈی کے دیگر ارکان آگے نہیں آئے۔ دھکم پیل کے دوران جب سپیکر نے کارروائی ختم کرنے کا اعلان کیا تو جنرل مشرف کھڑے ہوگئے جن کے بائیں جانب چیئرمین سینٹ محمد میاں سومرو اور دائیں جانب سپیکر چودھری امیر حسین بھی کھڑے ہوگئے۔ صدر نے سرکاری ارکان کی طرف عاجزی سے دیکھتے ہوئے سلام کیا جبکہ حزب اختلاف کے ارکان کی جانب دونوں ہاتھ بلند کرکے زوردار مکے بناکر انکو دکھائے۔ یوں پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ختم ہوگیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ امن کی علامت سفید رنگ کی شیروانی پہن کر جنرل نے پارلیمنٹ سے خطاب کرکے یہ تاثردینے کی کوشش کی ہے کہ وہ جمہوری اداروں کا احترام کرتے ہیں تاہم حزب اختلاف کے سید نوید قمر اور دیگر کا کہنا تھا کہ یہ انکی چال تھی ـ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||