| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پگاڑا کے دو اراکین اسمبلی نااہل
سندھ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے پیر پگاڑا کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے ایم این اے محمد خان جونیجو اور سندھ اسیمبلی کے ممبر بشیر بانبھن کی اسمبلی رکنیت ختم کرکے انہیں نااہل قراردے دیا ہے- ان دونوں ارکان کو ان کی بی اے کی ڈگریاں جعلی ثابت ہونے پر نااہل قرار دیا گیا ہے- سابق سینیٹر اور معروف سیاستدان شاہنواز جونیجو کے فرزند محمد خان جونیجو کے خلاف ان کے مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار فدا حسین ڈیرو نے انتخابی عذرداری دائر کر رکھی تھی- درخواست گزار فدا ڈیرو نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ محمد خان جونیجو کی جانب سے کاغذات نامزدگی کے ساتھ پیش کی گئی گریجوئیشن کی ڈگریاں جعلی ہیں-
تاہم سیکریٹ لیجر (خفیہ کھاتے) پر ایک کاغذ چسپاں کرکے محمد خان کا نام درج کیا گیا ہے- الیکشن ٹربیونل کے جسٹس مسلم ہانی نے جمعہ کو اپنے فیصلے میں ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہوئے محمد خان جونیجو کو نا اہل قرار دیا- اور اکتوبر دو ہزار دو میں سانگھڑ کے قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر دو سو چھتیس پر ہونے وال انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس حلقے میں از سرنو انتخابات کرانے کی ہدایت کی ہے- فیصلے کے وقت محمد خان اور ان کے وکیل نواب مرزا عدالت میں موجود نہیں تھے- فداحسین ڈیرو نے الیکشن ٹربیونل میں تیس نومبر کو درخواست دائر کی تھی- محمد خان جونیجو سندھ کے ممتاز اور اپنے منفرد سٹائل کے حوالے سے مشہور سیاستدان شاہنواز جونیجو کے بیٹے اور ضلع ناظم سانگھڑ روشن الدین جونیجو کے چھوٹے بھائی ہیں- شاہنواز جونیجو ایک عرصے تک پیپلز پارٹی سے منسلک رہے اور بینظیر بھٹو کے پہلے دور میں وفاقی وزیر بھی رہے اور بعد میں پی پی پی کے ٹکٹ پر سینیٹر بھی منتخب ہوئے- گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں شاہنواز جونیجو نے پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ کر پیر پگاڑا سے اتحاد کیا اور اپنے ایک بیٹے کے لئے ضلع ناظم کا عہدہ اور دوسرے بیٹے کے لئے قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کی- الیکشن ٹربیونل نے خیرپور کے صوبائی حلقہ نمبر اکتیس سے مسلم لیگ فنکشنل کے منتخب ہونے والے امیدوار بشیر بانبھن کو بھی نا اہل قرار دیا ہے- ان کی ڈگری بھی جعلی ثابت ہوئی تھی- ان کے خلاف ان کے مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار شوکت راجپر نے درخواست دائر کر رکھی تھی- عدالت نے بشیر بانبھن کی رکنیت ختم کرنے اور انہیں نااہل قرار دینے کے ساتھ پچیس ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے- یہ رقم درخواست گذار شوکت راجپر کو ادا کی جائے گی- عدالت نے مقدمے کی فائل الیکشن کمیشن کو بھیجی ہے اور کہا ہے کہ اس حلقے پر درخواست گذار شوکت راجپر کو کامیاب قرار دینے یا از سرنو انتخابات کرانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||