| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپاہ صحابہ کے سولہ کارکن گرفتار
لاہور کے علاقہ غازی آباد میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سولہ افراد کو مبینہ طور پر اجلاس منعقد کیے جانے کے الزام میں گرفتار کر کے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے سپاہ صحابہ سمیت چند تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے اور ان پر ہر قسم تنظیمی سرگرمیوں یا تنظیم کا نام استعمال کرنے پر پابندی ہے ۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے تاہم یہ واضح کیا ہے کہ اس آپریشن کا پولیس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ آپریشن خفیہ تحقیقاتی ایجنسی کے اہلکاروں نے کیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے پولیس آفیسر عثمان انور کے حوالے سے پندرہ افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں کالعدم تنظم کے دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جو سزائے موت یافتہ تھے تاہم ان کی سزا، عمر قید میں تبدیل کر دی گئی تھی اور وہ چودہ چودہ سال کی سزا کاٹ کر رہا ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر ان افراد پر یہ الزام لگایا گیا ہےکہ انہوں نے اپنی تنظیم کے کالعدم ہونے کے باوجود غازی آباد میں اس کا دفتر بنایا اور وہاں ایک تنظیمی اجلاس جاری تھا کہ اطلاع ملنے پر خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے پولیس کے ساتھ ملکر چھاپہ مارا دیا۔گرفتار شدگان سے تین پستول بھی برآمد ہوۓ ہیں ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکار ملزمان سے اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کردیں اور ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا جائے۔ غازی آباد تھانہ کے ڈیوٹی افسر نے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||