BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2004, 03:25 GMT 08:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آؤ معاشی تقسیم ختم کردیں‘

یشونت سنہا اور خورشید قصوری
یشونت سنہا نے سارک ملکوں کے لیے ایک کرنسی اور لوگوں اور سامان کی آزادانہ تجارت کی تجویز بھی دی ہے

ہندوستان کے وزیر خارجہ یشونت سنہا نے تجویز پیش کی ہے کہ جنوب ایشیا کے ملک اپنے درمیان قائم سرحدوں کو نرم کردیں اور انہیں محفوظ بنائیں اور سب مل کر ایک خوشحال برصغیر کا اتحاد بنائیں۔

انھوں نے سارک ملکوں کے لیے ایک کرنسی اور لوگوں اور سامان کی آزادانہ تجارت کی تجویز بھی دی اور ایران ، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک مشترکہ منڈی کی تجویز بھی پیش کی۔

اسلام آباد میں بارھویں سارک سربراہ کانفرنس سے پہلے وزراۓ خارجہ کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ہندوستان کے وزیر خارجہ نے سارک ملکوں کے مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سے بھی خطاب کیا۔

اس خطاب میں یشونت سنہا نے تفصیل سے ہندوستان کی معاشی کامیابیوں اور اس کی معیشت کی دنیا میں بڑھتی ہوئی اہمیت کا جائزہ پیش کیا اور جنوب ایشیا کے ملکوں کے درمیان قریبی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی تجایز پیش کیں۔

یشونت سنہا نے جنوب ایشیا کی اصطلاح کے ساتھ ساتھ ان ملکوں کے لیے کئی بار برصغیر کا لفظ بھی استعمال کیا۔ انھوں نے سارک چمبر آف کامرس کے اجلاس میں کہا کہ ہندوستان ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے جس سے برصغیر کو معاشی طور پر ایک کرنے میں مدد ملے۔

یشونت سنہا نے تجویز دی کہ آئیے قومی سرحدوں کو نرم کریں اور محفوظ بنائیں تاکہ جنوب ایشیا کا یہ خطہ ایسا اقتصادی علاقہ بن جاۓ جہاں فائدہ اور مقابلہ پر مبنی اشتراک سے ہم سب کو فائدہ پہنچ سکے۔ انھوں نے کہا کہ ہم سب مل کر خوشحال اور دوستی پر مبنی برصغیر کا ایک اتحاد بنا سکتے ہیں۔

یشونت سنہا نے کہا کہ ہم نے ماضی میں اپنے لوگوں اور منڈیوں کو تقسیم کرکے اپنی قدر وقیمت کا اسے بہت کم فائدہ اٹھایا جو اصل میں اٹھایا جانا چاہیے تھا۔

ہندوستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ جنوب ایشیا کے ملکوں کی کرنسی ایک ہوجاۓ اور ان کا ایک درآمدی ٹیرف ہو اور یہاں کے لوگ اور چیزیں آزادانہ ایک دوسرے ملکوں میں آئیں جائیں۔

یشونت سنہا نے پہلی بار ایک بلکل نئی بات کرتے ہوۓ کہا کہ کہ حال ہی میں جب وہ ایران گۓ تھے تو انھوں نے ایران کی قیادت سے کہا تھا کہ پاکستان، ایران اور ہندوستان مل کر ایک مشترکہ اقتصادی منڈی بنائیں جس سے تینوں ملکوں کے لوگوں کو اقتصادی مواقع ملیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ایسی منڈی بن جاۓ تو بعد میں اس کے دائرہ میں افغانستان، وسط ایشیا کے ممالک اور خلیج کے ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

یشونت سنہا نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع منفرد ہے اور یہ برصغیر ، خلیج فارس اور وسط ایشا کے سنگم پر واقع ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان جسے توانائی کے وسائل کی شدید ضرورت ہے اور اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈی کو وسط ایشا، خلیج ور مغربی ایشیا سے جوڑنے میں پاکستان ایک پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان ہمت کرے اور دانشمندی دکھاۓ اور ہندوستان کے بارے میں اپنا موجودہ رویہ تبدیل کرلے تو وہ ہندوستان اور دوسرے علاقوں کے درمیان اشیا کی تجارت اور لوگوں کی نقل وحرکت کا ٹرانزٹ روٹ بن سکتا ہے جس سے اسے بہت فائدے پہنچ سکتے ہیں۔

یشونت سنہا نے زور دے کر یہ بات کہی کہ ہندوستان حجم، آبادی اور کامیابی کے اعتبار سے سیاسی اور سماجی میدانوں میں بڑا ملک ہے لیکن اس چیز کو ہندوستان کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے بڑے ہونے کا چھوٹے ہمساۓ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ہندوستان کی بھی ہی خواہش ہے کہ معاشی تعلقات کا سب کو فائدہ پہنچے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد