| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لشکر جھنگوی: سرکردہ رہنما گرفتار
پولیس نے لاہور کے لاری اڈہ سے کالعدم عسکری تنظیم ’لشکر جھنگوی‘سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ شدت پسند کوگرفتار کیا ہے۔ سی آئی اے کوتوالی کے ایک اہلکار کے مطابق انہیں زندہ یا مردہ گرفتار کرننے والے کے لیے حکومت پنجاب نے پانچ لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا ہے۔ گرفتارہونے والے کا نام ملک صفدر ہے اور وہ لاہور کے علاقہ شاہدرہ کے رہائشی ہیں ۔ سی آئی اے کوتوالی کے سب انسپکٹر جاوید صدیق نے رات گئے بتایا کہ ملک صفدر کا ذکر حکومت پنجاب کی اس سرخ کتاب کے ایک صفحہ پر ہے جس میں حکومت پنجاب کو مطلوب مبینہ شدت پسندوں کا تفصیل سے ذکر ہے ۔ انہیں لاہور کے لاری اڈہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ لاہور سے فیصل آباد جانے کے لیے ایک بس میں سوار ہو رہے تھے ۔ ان کے قبضہ سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔ پولیس کے سب انسپکٹر کا کہنا ہے کہ اس کالعدم تنظیم کے اراکین کا یہ طریقہ کار ہے کہ عام شہری کی حثیت سے سفر کرتے وقت وہ کوئی ہتھیار ساتھ نہیں رکھتے۔ سب انسپکٹر نے بتایا کہ ’ سرخ کتاب‘ کے مندرجات کے مطابق ملک صفدر پر الزام ہے کہ انہوں نے چند سال قبل لاہور کے علاقہ گوالمنڈی میں ایک شیعہ تاجر غلام مصطفیٰ جاوا کو قتل کیا تھا۔ اس کے علاوہ گلشن راوی میں اپنی گرفتاری کے لیے جانے والی ایک پولیس پارٹی پر حملہ کیا جس میں اس کے وقت کے ایس پی طارق کھوکھر بال بال بچے تھے۔ پولیس کے مطابق اس نے افغانستان سے عسکری تربیت حاصل کی تھی اور پولیس کے ایک مقابلہ کے بعد وہ افغانستان منتقل ہوگئے تھے اور افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملہ کے بعد پاکستان لوٹ آئے تھے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اس وہ پاکستان کے انتہائی مطلوب شدت پسند ریاض بسرا کے قریبی ساتھیوں میں سے بتائے جاتے ہیں ۔ ریاض بسرا دوسال قبل ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک ہوچکے ہیں وہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے بانی سربراہ تھے اور ان کی یہ تنظیم شیعہ فرقے کے خلاف بنائی گئی تھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اس تنظیم کے اراکین نے سینکڑوں شیعہ افراد کو ہلاک کیا ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||