| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان طالبان، القاعدہ کی پناہ گاہ‘
افغانستان میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ القاعدہ، طالبان اور گلبدین حکمتیار پاکستان کو بطور پناہ گاہ استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی سفیر کا یہ بیان دارالحکومت کابل میں پولیس کی تربیت حاصل کرنے والے نئے دستے کی تربیت مکمل ہونے کی ایک تقریب میں سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سخت گیر طالبان، القاعدہ اور حکمتیار جو افغانستان کو دوبارہ بُرے وقت کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں پاکستان کو بطور پناہ گاہ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی اور افغان فورسز نے جنوبی صوبے زابل میں بدھ کے روز مختلف کارروائیوں میں چودہ مشتبہ طالبان کو حراست میں لیا اور ان سے اسلحہ برآمد کیا۔ یہ کارروآئی سابق صوبائی گورنر حمید اللہ توخی کے مکان پر بھی کی گئی اور حکام وہاں سے پچاس سے زائد رائفلز برآمد کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس تقریب میں افغان صدر حامد کرزئی بھی موجود تھے لیکن انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ افغان حکومت بھی ماضی میں پاکستان پرطالبان کی مدد کا الزام لگاتی رہی ہے جس کی اسلام آباد تردید کرتا رہا ہے۔ زلمے خلیل زاد نے اس بیان میں براہ راست پاکستان حکومت پر تو کوئی الزام نہیں لگایا ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ابھی بھی پاکستان میں مشتبہ طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائیوں سے مطمئن نہیں۔ گزشتہ ماہ افغانستان میں تعینات کئے جانے والے زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اس وقت اچھے اور برے عناصر میں کشمکش جاری ہے۔ ’ہم اچھے عناصر کا ساتھ دیں گے تاکہ برے کو کمزور کیا جاسکے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ افغان حکام کے ساتھ مل کر ملک کے مشرق اور جنوب میں حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’اسامہ بن لادن، زواہری، ملا عمر اور حکمتیار اور دیگر جرائم پیشہ عناصر جو افغانوں اور امریکیوں کو افغانستان اور دنیا بھر بشمول امریکہ میں ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ان کو انشا اللہ سزا دی جائے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ افغان پولیس کے اختیارات بڑھانے کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے آئندہ برس کے اختتام تک بیس ہزار پولیس اہلکاروں کو تربیت دیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||