| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آدمی کہاں جائے کیا کرئے
ساڑھے چودہ کروڑ کی آبادی کے پاکستان میں چار معیاری چڑیاگھر ہیں جہاں عام آدمی اپنے بال بچوں کو لے جا سکتا ہے۔ آٹھ سے دس جدید سہولتوں سے مزین اسپورٹس کمپلیکس اور اسٹیڈیم کہے جا سکتے ہیں۔ زیادہ تر سینما گھر مارکیٹوں یا شاپنگ کمپلیکس میں تبدیل ہوچکے ہیں یا ہو رہے ہیں۔ ساحل سمندر تیل اور نکاح نامے کی طلب گار پولیس سے آلودہ ہے۔ بچوں کے لیے پر کشش تھیم پارک دو تین بڑے شہروں میں ہیں اور وہ بھی اتنے مہنگے کہ لوئر مڈل کلاس کا آدمی اپنے بچوں کووہا ں لے جاتے ہوئے دس بار سوچتا ہے۔ ایسے میں صرف ٹی وی ڈرامے، کیبل نیٹ ورک اور اسپورٹس بالخصوص کرکٹ کے ٹیلی کاسٹ ہونے والے میچ ہی اس مظلوم پاکستانی کی آخری پناہ گاہ رہ گئے تھے۔ سو اس پناہ گاہ میں بھی کمرشل ازم کا اونٹ گھس رہا ہے۔ اب سے دس بارہ برس پہلے تک یہ آدمی پاکستان ٹی وی پر اچھے ڈرامہ سیریل دیکھ لیتا تھا۔ جب سے پرائیویٹ پروڈکشن کا دور شروع ہوا ہےتو سرکاری ٹی وی کے متعدد باصلاحیت لوگ نجی شعبہ میں جانے لگے یا پی ٹی وی میں رہتے ہوئے بھی نجی شعبے کے ہوگئے۔ اور پی ٹی وی ڈرامہ پر دی جانے والی توجہ بھی اسی تناسب سے کم ہوتی چلی گئی۔ اسوقت حال یہ ہے کہ پی ٹی وی ، واپڈا اور پبلک ورکس ڈیپارٹمٹ میں کونسا سرکاری محکمہ اپنی کارکردگی کے اعتبار سے زیادہ زبوں حال ہے یہ کہنا مشکل ہے۔ اس صورت حال کی شدت کو پرائیویٹ ٹی وی چینلز اور کیبل ٹی وی نے کچھ عرصے تک کم کرنے کو کوشش کی اور عام آدمی کو ریموٹ کنٹرول سے چینل بدلنے کا حق ملا۔ لیکن دو برس پہلے اس عام آدمی کو حب الوطنی کے نام پر میڈیا کنٹرول اتھارٹی پیمرا نے بتایا کہ غیر ملکی چینل بالخصوص بھارتی ٹی وی چینل دیکھنا سیاسی اور نظریاتی طور پر مضر ہے۔ یہ در بند ہونے کے بعد عام آدمی نے اسپورٹس بالخصوص کرکٹ میچوں کی نشریات پر ہی ساری توجہ مرکوز کر دی پھر اسے اچانک یہ پتا چلا کہ اس کا یہ حق بھی کمرشل ازم کے حقوق کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے۔ اب سے ٹھیک ایک ہفتے پہلے اسی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے پی سی بی کے سربراہ اور پی ٹی وی کے ایم ڈی نے بھی یہ یقین دلایا تھا کہ کرکٹ دکھانے کے حقوق نجی شعبے کو فروخت کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ عام آدمی کو اس حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ بلکہ اس آدمی کو حسب سابق کرکٹ دیکھنے کوملے گی۔ یہ بات نا صرف غلط ثابت ہوئی بلکہ اس نے ایک قومی اسکینڈل کی صورت اختیار کرلی۔ دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ ساری دنیا میں خصوصی نشریات یا کھیلوں کو ٹیلی کاسٹ کرنے کے حقوق بیچے اور خریدے جاتے ہیں لہذا پاکستانی حکومت نے کوئی عجیب کام نہیں کیا۔ مگر یہ دلیل درحقیقت آدھا سچ ہے۔ پورا سچ تو یہ ہے کہ برطانیہ اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے ملکوں میں جہاں نجی شعبے کو یہ حقوق بیچے جاتے ہیں وہاں ٹیلی کاسٹ حقوق خریدنے والے کی مالی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے کہ اس کا نیٹ ورک کتنا بڑا ہے آیا اکثریت تک اس نیٹ ورک کی رسائی ہو گی یا نہیں۔ پاکستان میں نجی شعبے کے ٹی وی چینلوں کا دائرہ نشریات اب بھی پندرہ فیصد سے زائد آبادی تک نہیں اور ایسے میں عام آدمی کے مفادات کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ان مفادات کی نگرانی کے لیے ترقی یافتہ ممالک میں اینٹی مناپلی کمیشن یا صارفین کے مفادات کا خیال رکھنے والے ادارے قائم ہیں۔ پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ نہیں چناچہ اسی خلاء کے نتیجے میں نجی اور سرکاری فیصلہ ساز ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کوجان چھڑانے کا نہایت آسان نسخہ سمجھتے ہیں اور یہی کچھ پاکستان میں بھی ہورہا ہے۔ مگر پاکستانی شہری کا مسئلہ وہیں کا وہیں ہے ۔ اس کے لیے الیکٹرونک میڈیا پہلے ریاستی کنٹرول میں تھا اور اب کمرشل ازم کے کنٹرول میں ہے۔ اگر یہ ہے آزاد میڈیا تو پھر کنٹرولڈ میڈیا کیا ہوتا ہے؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||