| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
رفاہی ادارووں میں زکوۃ کی جنگ
پاکستان کے بڑے شہروں میں مختلف رفاہی اداروں کی جانب سے ماہ رمضان کے دوران زیادہ سے زیادہ زکوۃ جمع کرنے کی مہم ایک نیا رخ اختیار کرگئی ہے جس کے نتیجے میں ملک کے سب سے مؤثر فلاحی ادارے ’ایدھی فاؤنڈیشن‘ کو ملنے والی زکوۃ میں لگ بھگ تیس فیصد کمی ہوگئی ہے۔ ماہ رمضان میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی اہم شاہراہوں پر دیو قامت اور انتہائی بیش قیمت اشتہاری بورڈز اچانک نمودار ہوگئے تھے جن میں عوام سے زکوۃ، فطرہ اور خیرات کی رقم دینے کی اپیل کی گئی تھی۔ اسی طرح نجی ٹیلی ویژن چینلز پر مختلف رفاہی اداروں کی جانب سے زکوۃ فراہم کرنے کی اپیلیں بھی نشر کی جانے لگیں اور رفاہی اداروں کے اشتہارات تمام بڑے اخبارات اور جرائد میں بھی شائع ہوئے۔ لاکھوں روپے مالیت کی اس تشہیری مہم کے نتیجے میں نسبتاً خوشحال طبقے کی جانب سے دی جانے والی کروڑوں کی زکوۃ، جس کا زیادہ تر حصہ پہلے ایدھی فاؤنڈیشن کو جاتا تھا، اب بہت سے دوسرے اداروں کے درمیان تقسیم ہونے لگا۔ گزشتہ چند ماہ میں جن اداروں نے زکوۃ جمع کرنے کی بہت بڑی تشہری مہمات چلائی ہیں ان میں ایسے مشہور گلوکاروں کی قائم کردہ امدادی تنظیمیں بھی شامل ہیں جو نوجوانوں میں انتہائی مقبول رہے ہیں۔
ان میں ’اساں تے جاناں ۔۔۔بلو دے گھر‘ گا کر ملک گیر شہرت حاصل کرنے والے گلوکار ابرارالحق کی قائم کردہ ’سہارا ٹرسٹ‘ نارووال میں ایک ہسپتال قائم کرچکا ہے جس کے لیے وہ مزید رقوم جمع کررہے ہیں۔ اسی طرح گلوکار شہزاد رائے کا قائم کردہ ’زندگی ٹرسٹ‘ ایسے اسکول چلارہا ہے جہاں تعلیم پانے والے غریب بچوں کو وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کا قائم کردہ شوکت خانم کینسر ہسپتال گزشتہ چند برسوں کے دوران زکوۃ اور عطیات وصول کرنے والے ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے جسے سارے ملک سے عطیات ملتے ہیں۔ کینسر کے اس سب سے بڑے ہستپال میں ہر سال ہزاروں غریب مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے اور کروڑوں کے خسارے کو زکوۃ و عطیات کے ذریعے ملنے والی رقوم سے پورا کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر ادیب رضوی کا ادارہ برائے امراض گردہ، یتیم بچوں کی نگہداشت کے لیے قائم ادارہ ’ایس او ایس ولیج‘ انصار برنی کا ادارہ ’انصار برنی فاؤنڈیشن‘ سٹیزن فاؤنڈیشن، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور متعدد دیگر ادارے بھی ماہ رمضان میں زکوۃ جمع کرنے کی مہم میں پیش پیش رہے۔ اس سلسلے میں معروف سماجی کارکن مولانا عبدالستار ایدھی کا کہنا ہے کہ وہ اشتہارات کی اس جنگ یا بہت بڑی اشتہاری مہم چلانے پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا ’میرے خیال میں خیرات کا اس طرح کی اشتہار بازی پر ضائع کیا جانا مناسب نہیں۔‘ ملک بھر میں سات سو سے زیادہ ایمبولینس گاڑیوں اور شہر شہر قائم امدادی مراکز کے ذریعے عوام کو سہولتیں فراہم کرنے والے مولانا عبدالستار ایدھی کی ’ایدھی فاؤنڈیشن‘ پاکستان میں کئی ہسپتال، بے سہارا عورتوں اور بچوں کے لیے قائم خصوصی مراکز، مردہ گھر، میت گاڑی اور ہنگامی امداد فراہم کرنے کے مراکز چلارہی ہے۔ مولانا ایدھی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ماہ رمضان میں ان کے ادارے کے ملنے والی امدادی رقم میں تیس فیصد کمی آئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے پاس بجٹ ہوا تو وہ اس رقم سے مزید پانچ ایمبولینس گاڑیاں خرید لیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||