BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 November, 2003, 17:46 GMT 22:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمالی: ایک پر چار کی پیشکش

جمالی
ظفر اللہ جمالی کا کہنا ہے کہ ایل ایف او پر مفاہمت جلد ہو جائے گی

پاکستان کے وزیر اعظم ظفراللہ خان جمالی نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کے ساتھ متنازعہ ایل ایف او کے مسئلہ پر مفاہمت ہوجائے گی اور قوم کو اس بارے میں جلد خوش خبری سننے کو ملے گی۔ انہوں نے اس بارے میں وقت کے تعین سے اجتناب کیا۔

انہوں نے ہفتے کی شام پشاور میں بینک آف خیبر کی ایک شاخ میں اسلامی بینکاری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں سے مختصر سی بات چیت میں کی۔ انہوں نے کہا کہ دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل اگر ایک قدم آگے بڑھائے گا تو وہ چار قدم بڑھائیں گے۔

اس موقعہ پر جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد اور جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمان بھی موجود تھے۔ قاضی حسین احمد سے صحافیوں نے وزیر اعظم کے بیان کے بارے میں استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا وہ صوبہ کے مہمان بن کر آئے ہیں انہیں آزادی ہے جو چاہے کہہ سکتے ہیں۔

وفاق میں مرکزی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایل ایف او کا مسئلہ گزشتہ ایک برس سے تنازعہ بنا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں مذاکرات کا سلسلہ کئی بار جڑ کر ٹوٹ چکا ہے۔تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس بار وزیراعظم کو حزب اختلاف کی کس بات نے اتنا پرُامید کیا ہے۔

وزیراعظم جمالی جوکہ بڑے خوشگوار موڈ میں نظر آرہے تھے کہا کہ ایم ایم اے کی حکومت کی دعوت پر انہوں نے فورا پشاور آنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ ان سے تعاون چاہتے ہیں اور اسی رویے کی توقع اس اتحاد سے مرکز میں بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم ایم اے کے بقول انکے ’دوغلے پن‘ پر حیرت کا اظہار کیا کہ صوبے میں وہ حکومت سازی کو تیار تھی لیکن مرکز میں نہیں۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے جس میں انہوں نے دولت مشترکہ کو پاکستان کی رکنیت بحال کرنے سے منع کیا ہے، جمالی نے ایم ایم اے سے اس قسم کے روّیے سے دور رہنے کے لیے کہا۔

انہوں نے صوبائی حکومت کی خواہش پر صوبے میں بلاسود بینکاری پر خوشی کا اظہار کیا البتہ واضح کیا کہ اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔

جمالی
جمالی مفاہمت کے بارے میں خاصے پُرامید تھے

انہوں نے کہا کہ وہ دو ہزار روپے سے اس شاخ میں اپنا کھاتہ کھول تو رہے ہیں لیکن کہیں اس کا بھی انہیں نیب والوں کو حساب نہ دینا پڑ جائے۔

صوبائی حکومت نے اسلامی بینکاری کے افتتاح کی تقریب پر کافی بڑی افطاری کا انتظام کیا تھا جس میں پانچ سو مہمانوں کو، جن میں اراکین پارلیمان کے علاوہ اعلی سرکاری اہلکار بھی شامل تھے مدعو کیا گیا تھا۔

کئی مبصرین کے خیال میں ایم ایم اے کے اخراجات میں کمی کی مہم کو اس تقریب سے کافی دھچکا لگا ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد