| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہاشمی: معائنہ کی درخواست مسترد
آج اسلام آباد کے جوڈیشل میجسٹریٹ اور سول جج عامر سلیم رانا نے ایک مختصر حکم نامہ میں اے آر ڈی کے اسیر صدر جاوید ہاشمی کا طبی معائنہ کراۓ جانے کی درخواست مسترد کردی۔ جاوید ہاشمی کے وکیل حشمت علی حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلی پیشی پر جج نے استغاثہ سے پوچھا تھا کہ بتایا جاۓ کہ جیل میں طبی سہولتیں ہیں یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب جاوید ہاشمی کا ریمانڈ دیا گیا تھا اس وقت جوڈیشل میجسٹریٹ اسلم گوندل نے اس وقت بھی طبی معائنہ کا حکم دیا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ جاوید ہاشمی پر تشدد کیا گیا ہے اور وہ بیمار بھی ہیں اس لیے ان کے طبی معائنہ کا حکم دیا جاۓ۔ اے آر ڈی کے صدر کے وکلاء نے ایک اور درخواست میں عدالت سے جاوید ہاشمی کو جیل میں اے کلاس دینے کی درخواست کی تھی جس پر آج عدالت نے اس پر دلائل مکمل ہونے پر اگلی سماعت دو دسمبر تک ملتوی کردی اور استغاثہ کو اگلی سماعت پر جاوید ہاشمی کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کا کہا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ اتنی دیر کے لیے سماعت کو مؤخر کرنا درخواست کو مسترد کیے جانے کے مترادف ہے اس لیے وہ کل اس مسئلہ کو پھر اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا ہے پاکستان میں جیل کے قوانین کی رو سے تعلیم یافتہ شخص اور جس کی آمدن تین ہزار روپے سے زیادہ ہو اے کلاس کا حقدار ہے۔ وکیل نے عدالت سے کہا تھا کہ جاوید ہاشمی نے دو ایم اے پاس کیے ہوۓ ہیں اور وہ پانچ مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور تین بار بار وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اس لیے عدالت انھیں جیل میں اے کلاس دینے کا حکم دے جبکہ استغاثہ کا موقف تھا کہ اس بات کا فیصلہ جیل کا سپرنٹنڈنٹ کرتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||