BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 November, 2003, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہاولنگر: فائرنگ سے تین ہلاک

تباہ شدہ پولیس تھانہ
مشتعل مظاہرین نے پولیس اسٹیشن اور ہسپتال کو آگ لگا دی

پنجاب کے جنوبی شہر بہاولنگر کے نواح میں واقع ایک قصبے ڈونگہ بونگہ میں جمعرات کو پولیس نے خونی ڈ کیتی کی واردات پر مظاہرہ کرنے والےایک ہجوم پر فائرنگ کرکے تین شہریوں کو ہلاک کردیا جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے بعدازاں مقامی تھانہ، ہسپتال اور فائر بریگیڈ کی گاڑی کو نذر آتش کر دیا۔

واقعہ کے بعد علاقہ میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس کی بھاری نفری شہر میں تعینات ہے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال داخل میں کروا دیا گیا ہے جہاں چار کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

اس تنازعہ کا آغاز بدھ کی شام ساڑھے سات بجے ڈونگہ بونگہ میں ایک ڈکیتی کی واردات سے ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مسلح ڈاکوؤں نے دو افراد سے انکی موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی تو قریب سے گزرنے والے ایک تانگہ سوار الطاف نے انہیں روکا۔ مسلح افراد نے فائرنگ کر کے اسے قتل کردیا۔

الطاف کے ورثاء اس کی نعش لے کر مقامی بنیادی صحت مرکز ڈونگہ بونگہ پہنچے تومقامی افراد کے مطابق انچارج ڈاکٹر نے رات نعش رکھنے سے انکار کردیا جس پر ورثاء ساری رات نعش لیے ہسپتال کے باہر بیٹھے رہے۔

ڈونگہ بونگہ میں مظاہرین
صورتِ حال ابھی بھی کشیدہ ہے

جمعرات کی صبح نو بجے تین چار سو افراد ہسپتال کے سامنے جمع ہوگئے۔ پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی۔ مظاہرین نے مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے ڈی ایس پی صدر بہاولنگر زخمی ہوگئے۔تھوڑی دیر بعد پولیس کی مزید نفری پہنچی پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور تھوڑی ہی دیر کے بعد براہ راست شہریوں کے ہجوم پر فائرنگ شروع کر دی جس سے تین افراد ہلاک ہوگئے ۔ایک پولیس اہلکار کے مطابق ہوائی فائرنگ کے جواب میں مظاہرین نے پولیس پر بھی فائرنگ کی تھی۔

اسلحہ ختم ہو گیا

 عوام نے مقامی پولیس اسٹیشن پر قبضہ کرلیا ہے اور ضلعی حکومت نے پولیس کی نفری اور اسلحہ ختم ہونے پر فوج طلب کرلی ہے

سلیم احمد

ڈونگہ بونگہ میں ایک مقامی اخبار کے نامہ نگار شفیق خان کے مطابق مظاہرین نے پولیس فائرنگ اور ڈ کیتی کے دوران ہلاک ہونے والے چاروں افراد کی نعشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ بعد ازاں ہجوم نے مقامی تھانہ پر حملہ کر دیا اور اس پر مٹی کا تیل اور پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ اہلکاروں نے بھاگ کر جانیں بچائیں۔ آگ سے تھانے کی عمارت سمیت تمام ریکارڈ اور برآمد شدہ موٹر سائیکلیں جل گئیں۔ اس دوران فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی آگ بجھانے پہنچی تو مشتعل مظاہرین نے اسے بھی آگ لگا دی اور ڈونگہ بونگہ کے بنیادی صحت مرکز پر دھاوا بول کر اسے بھی آگ لگا دی۔

اطلاعات کے مطابق ساٹھ بستروں کے اس ہسپتال کے ایک بڑے حصہ کو نقصان پہنچا اور پانچ چھ کمرے جل گئے۔ مظاہرین نے ہسپتال کے انچارج کی گاڑی کو بھی نذر آتش کر دیا۔

بہاولنگر کی سکیورٹی برانچ کے انچارج سلیم احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ عوام نے مقامی پولیس اسٹیشن پر قبضہ کرلیا ہے اور ضلعی حکومت نے پولیس کی نفری اور اسلحہ ختم ہونے پر فوج طلب کرلی ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق بہاولنگر کے ایس پی پولیس عمر شیخ بھی شدید زخمی ہیں اور بہاولنگر کے ہسپتال میں داخل ہیں ان کے علاوہ پولیس کے دو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور بیس سے زیادہ اہلکار فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں اور بہاولنگر اور ہارون آباد کے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔

پولیس کےمطابق مظاہرین جن کی تعداد سات ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے اتنے مشتعل تھے کہ انہوں نے متعلقہ ڈاکٹر کو مارنے کی کوشش کی جسے پولیس مشکل سے بچا سکی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر گولی چلائی اور کراس فائرنگ میں پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں لوگ شدید زخمی ہوگۓ۔

تاہم ڈونگہ بونگہ کے چند مقامی شہریوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چار افراد کی ہلاکت پولیس کی مظاہرین کے ہجوم پر فائرنگ سے ہوئی اور کراس فائرنگ کی بات غلط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہجوم نے پولیس پر صرف پتھراؤ کیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ پولیس نے نہتے لوگوں پر فائرنگ کی جس سے لوگ ہلاک ہوۓ اس لیے وہ اپنی جان بچانے کے لیے حقائق کو غلط رنگ دے رہی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کل ایک تانگہ بان الطاف ڈاکوؤں کی گولی لگنے سے زخمی ہوا تھا جسے گاؤں کے لوگ رورل ہیلتھ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر طاہر کے پاس علاج کے لیے لے گۓ لیکن اس نے کہا کہ پہلے اس کی ایف آئی آر درج کرائی جاۓ پھر وہ علاج کرے گا زخمی تانگہ بان کو اس کے گاؤں کے لوگ جب تھانے مقدمہ درج کرانے لے گۓ تو انھوں نے بھی لیت ولعل سے کام لیا۔ اسی دوران میں زخمی ہلاک ہوگیا۔

مظاہرین نے زخمی کا علاج نہ کرنے والے ڈاکٹر طاہر چودھری کی موٹر سائکل کو بپی آگ لگا دی اور ہسپتال کی عمارت کو نقصان پہنچایا۔ تاہم ڈاکٹر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ سرکاری ڈاکٹر نے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے شخص کا علاج کرنے کے لیے پیسے مانگے تھے اور بغیر پیسے لیے علاج کرنے سے انکار کیا تھا جس پر لوگوں میں اس شخص کی ہلاکت پر اشتعال پھیل گیا۔ مقامی افراد کے مطابق ڈاکٹر کی شہرت علاقہ میں اچھی نہیں ہے۔

دوسری طرف جب پولیس نے اپنے چند افسران کے پتھراؤ سے زخمی ہونے پر مظاہرین پر گولی چلادی اور اس سے فوری طور پر تین افراد ہلاک ہوگۓ تو ہجوم کی تعداد میں اضافہ ہوگیا اور مظاہرین کے ڈر سے پولیس وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی اور اس نے فوج کے ضلعی ہیڈ کوارٹر میں پناہ لی اور فوج سے مدد طلب کی۔ فوج نے پولیس کی مدد سے انکار کردیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد