| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈونگہ بونگہ میں کشیدگی برقرار
بہاولنگر کے نواحی قصبے ڈونگہ بونگہ میں جمعرات کے روز پولیس فائرنگ سے تین شہریوں کی ہلاکت کے بعد سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پنجاب کے جنوبی قصبے میں جمعرات کو پولیس نے خونی ڈ کیتی کی واردات پر مظاہرہ کرنے والےایک ہجوم پر فائرنگ کرکے تین شہریوں کو ہلاک کردیا جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے تھے۔ مظاہرین نے بعدازاں مقامی تھانہ، ہسپتال اور فائر بریگیڈ کی گاڑی کو نذر آتش کر دیا تھا۔ پرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس ڈونگہ بونگہ سے فرار ہوگئی تھی اور اس نے فوج کے ضلعی ہیڈ کوارٹر میں پناہ لی تھی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس سے صوبائی سربراہ بھی بھاولنگر پہنچ گئے اور مظاہرین کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ اگر معاملات فوری طور پر نہ سلجھے تو جمعہ کے روز زیادہ پرتشدد مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ جمعرات کے روز مظاہرین نے پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو مقامی ارکان صوبائی اسمبلی محمد یار ممونکہ اور رائے اعجاز کی مصالحانہ کوششوں کے بعد وہ ہلاک ہونے والے افراد کا پوسٹ مارٹم کرانے پر راضی ہوگئی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کے دو دو رشتہ داروں کو بہاولنگر کے لے جا کر ان آئی جی پولیس مسعودشاہ سے ملاقات کرائی گئی۔ ہلاک شدگان کے لواحقین نے آئی جی پر واضح کیا کہ جب تک ڈونگہ بونگہ کے ایس ایچ او یوسف پہلوان اور دیہی مرکز صحت میں تعینات ڈاکٹر طاہر جاوید پر قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ شاید مظاہرین کے نمائندوں اور ہلاک شدگان کے لواحقین کی آئی جی پولیس سے ملاقات کے بعد شاید حالات میں بہتری پیدا ہوا لیکن مظاہرین اپنے مطالبات کے فوری طور پر منظور نہ ہونے پر دوبارہ تیس ہزار کی آبادی کے قصبے ڈونگہ بونگہ کی گلیوں اور چوکوں میں دوبارہ اکٹھا ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||