| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی باکسر، ماسکو میں تربیت
پاکستان میں باکسنگ تنگ و تاریک گلیوں میں رہنے والے غریب طبقے کا کھیل ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ انہی تنگ وتاریک گلیوں نے پاکستان کو اس کھیل کے آسمان پر چمکتے دمکتے ستارے دیئے ہیں جنہوں نے غربت کے ساتھ ساتھ حریف باکسرز کے وار سہتے ہوئے رنگ میں وہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جو اہمیت میں ہاکی، کرکٹ اور اسکواش میں حاصل کی گئی کامیابیوں سے کسی طور کم نہیں۔ پاکستان نے اگر کسی کھیل میں سب سے زیادہ تمغے جیتے ہیں تو وہ باکسنگ ہے لیکن رنگ سے سنائی جانے والی جیت کی نوید بھی پاکستانی باکسرز کی حالت بدلنے کے لئے ناکافی رہی اور وہ ایک طویل عرصے تک مالی تنگدستی کے زور دار مکے اپنی قسمت پر کھاتے رہے۔ اب پاکستان میں باکسنگ کے شعبے کی ایک قدآور شخصیت پروفیسر انور چوہدری کی طویل عرصے سے جاری کوششوں کے نتیجے میں حکومت پاکستان نے باکسرز اور باکسنگ کی حالت بدلنے کے لئے خطیر گرانٹ دی ہے جس کا بنیادی مقصد آئندہ سال یونان کے شہر ایتھنز میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں کی تیاری ہے۔ پاکستانی باکسرز نے دنیا کے ہر ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمغے جیتے ہیں جن میں عالمی مقابلے یعنی ورلڈ چیمپئن شپ، دولت مشترکہ کے ممالک کے کھیلوں کے مقابلے یعنی کامن ویلتھ گیمز، کھیلوں کے ایشیائی مقابلے یعنی ایشین گیمز، ایشین چیمپئن شپ اور مختلف ممالک میں ہونے والے عالمی سطح کے دیگر مقابلے قابل ذکر ہیں۔ اولمپکس میں پاکستان نے باکسنگ کے شعبے میں صرف کانسی کا ایک تمغہ جیتا ہے یہ کامیابی انس سو اٹھاسی میں جنوبی کوریا کے شہر سیول میں ہونے والے اولمپکس میں حسین شاہ نے حاصل کی تھی۔ حکومت سے مالی مدد ملنے کے بعد اس مرتبہ پاکستان امیچر باکسنگ فیڈریشن اولمپکس میں پاکستان کے زیادہ سے زیادہ باکسرز کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں نظر آتی ہے۔ ایتھنز اولمپکس میں باکسرز کی شرکت کوالیفائنگ مقابلوں کے ذریعے ہوگی جو مختلف ممالک میں منعقد ہونگے اس سلسلے کا پہلا کوالیفائنگ ٹورنامنٹ جنوری میں منیلا میں ہونے والا ہے جس میں پاکستان امیچر باکسنگ فیڈریشن نے تمام گیارہ کیٹگریز میں اپنے باکسرز بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروفیسر انور چوہدری کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ پاکستانی باکسرز بین الاقوامی معیار کی تربیت کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکتے لہٰذا انہوں نے پاکستانی باکسرز کی روس میں تربیت کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ پاکستان کے چھ باکسرز اگلے ہفتے ماسکو جاکر وہاں ورلڈ کلاس باکسرز کے ساتھ تربیت حاصل کرینگے۔ تربیت کے لیے ماسکو جانے والے ان باکسرز میں اصغر علی شاہ ، نعمان کریم ، احمد علی، مہراللہ، شعیب رشید اور سہیل احمد شامل ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں احمد علی اور نعمان کریم ورلڈ سیزن گیمز میں پاکستان آرمی کی نمائندگی کرنے اٹلی جارہے ہیں ان مقابلوں میں شرکت کے بعد وہ ماسکو کی تربیت میں شامل ہوجائیں گے۔ پاکستانی باکسرز کی ماسکو میں تربیت جنوری کے دوسرے ہفتے تک جاری رہے گی۔ پاکستان امیچر باکسنگ فیڈریشن نے پاکستانی باکسرز کی دوسرے مرحلے میں تربیت کے لئے انہیں قازقستان بھی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروفیسر انور چوہدری نے توقع ظاہر کی ہے کہ عالمی سطح کے باکسرز کے ساتھ تربیت کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور پاکستانی باکسرز اولمپکس میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||