| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
میک اپ میں سٹیرائڈز؟
میک اپ یا بناؤ سنگھار یوں تو خواتین حسن میں اضافے کے لئے استعمال کرتی ہیں مگر ایک حالیہ تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں میک اپ کی غیر معیاری اور زائدالمیعاد اشیاء خواتین کے لیے بد صورتی کا سبب بن رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق بعض کاسمیٹکس کے سامان میں سٹیرائڈز استعمال ہو رہے ہیں جوکہ وقتی طور پر تو جلد کو بہتر بنادیتے ہیں لیکن یہ جلد کے لئے انتہائی مضر ہیں اور ان کے مسلسل استعمال سے لاعلاج جِلدی امراض جنم لیتے ہیں۔ آج کل مارکیٹ میں مختلف قسم کا میک اپ کا سامان بھرا پڑا ہے اور آئے دن نئے نئے برانڈز متعارف کروائے جارہے ہیں۔ لوشن، فاؤنڈیشن، کریم، پاؤڈر، لپسٹک کے علاوہ طرح طرح کی اشیاء کی تشہیر کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بناؤ سنگھار کا سامان بعض خواتین کی جلد پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے جن میں جلد کی الرجی نمایاں ہے۔ ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر عرفان اللہ خان نے بتایا کہ غیر معیاری اور زائدالمیعاد سامان سے مختلف جلدی امراض جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خواتین جو زیادہ بناؤ سنگھار کرتی ہیں ان میں جلد کی الرجی عام ہے۔ ڈاکٹر عرفان اللہ خان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات حساس جلد کے لئے معیاری میک اپ کا سامان بھی الرجی کا باعث بنتا ہے۔ اس بارے میں ایک نو بیاہتا دلہن نے بتایا کہ انہوں نے شادی کے بعد بناؤ سنگھار کے لئے میک اپ کا سامان استعمال کیا جس سے ان کے چہرے پر دانے نکل آئے جس میں پیپ پڑ گئی تھی۔ یہ خاتون ماہر امراض جلد کے پاس علاج کی غرض سے آئی ہوئی تھیں۔ اب ڈاکٹروں نے ان کو بناؤ سنگھار سے منع کر دیا ہے۔ ڈاکٹر عرفان اللہ خان نے مزید بتایا کہ کچھ اشیاء میں سٹیرائڈز استعمال ہو رہے ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں۔ سٹیرائڈز استعمال کرنے کا مقصد بظاہر میک اپ کی اشیاء کی کارکردگی بڑھانا ہوتا ہے تاکہ جلد از جلد کے اندر جذب ہو اور جلد اثر دکھائے لیکن اس طرح کے سامان کے مسلسل استعمال سے انتہائی خطرناک بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں بعض لا علاج امراض بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین بناؤ سنگھار ضرور کریں لیکن پہلے میک اپ کے سامان کے معیاری ہونے کی تصدیق کر لیں اور اس کی میعاد پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے ورنہ لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور بناؤ سنگھار خوبصورتی کے بجائے بد صورتی کا موجب بن سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||