| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیو اور شرمندگی
’ڈاڑھی مونڈھنے کے لئے کہہ کر شرمندہ نہ کریں‘ ممکن ہے کہ کسی حجام کی دکان میں اگر ایسے کسی انتباہ پر نظر پڑے تو شاید پہلی نظر میں یہ بات عجیب سی ہی لگے مگر صوبۂ سرحد کے دورافتادہ پہاڑی ضلع کوہستان کے شہر بشام میں ایسے انتباہ حجاموں کی تمام ہی دکانوں میں باآسانی دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شاہراہ قراقرم پر واقع چھوٹے سے سیاحتی مرکز ’بشام‘ کے تقریباً سترہ حجاموں نے ڈاڑھی مونڈھوانے کو غیر اسلامی فعل قرار دیتے ہوئے اپنی دکانوں پر داڑھی مونڈھوانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ فیصلہ ان حجاموں نے ایک مقامی مسجد میں علماء سے صلاح و مشورے کے بعد کیا ہے۔ شہر میں حجاموں کی تنظیم ’بشام حجام ایسوسی ایشن‘ کے ناظم اطلاعات شیر علی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ڈاڑھی مونڈھنے کا کام کافی عرصے سے علاقے میں زیر بحث تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’کوئی اسے غیر اسلامی قرار دیتا تو کوئی اس سے ہونے والی آمدنی کو حرام بتاتا۔ بالآخر مجبوراً ہمیں اسے بند کرنا پڑا۔‘ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس فیصلے سے روزانہ باقاعدگی سے شیو بنانے والوں کے لئے خاصے مسائل کھڑے ہوجائیں گے۔ ان افراد کے بارے میں انہوں نے کہا ’انہیں تو اب گھر پر ہی شیو کرنا ہوگی۔‘ بشام کے ایک تاجر خانزادہ کا کہنا تھا کہ ’مقامی لوگوں کو تو شیو سے متعلق پریشانی ہوئی ہی ہے مگر ’اصل مسئلہ تو یہاں آنے والے سیاحوں کو ہوگا۔ یہ (بشام) تو ایک چھوٹا سا سیاحتی مرکز تھا وہ لوگ اب کیا کریں گے؟‘ مقامی حجام یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس فیصلے سے ان کی آمدنی کم ہوگی لیکن ان کا کہنا ہے کہ گاہکوں کے بال بنانے اور حمام کی آمدنی سے ان کا گزارہ ہوجائے گا۔ اس فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے حجام کو نہ صرف بیس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا بلکہ وہ چھ ماہ کے لئے کاروبار بھی نہیں کرسکے گا۔ بشام کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں ماضی میں ’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘ (ٹی این ایس ایم) جیسی اسلامی انتہا پسند تنظیموں کا بہت زیادہ اثر رہا ہے۔ گزشتہ برس کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم ٹی این ایس ایم نے اب اس علاقے میں دوبارہ مساجد کی سطح پر سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ البتہ شیر علی اس فیصلے کے لئے اس تنظیم یا متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کے دباؤ سے انکار کرتے ہیں۔ مقامی حجاموں کی انجمن نے اس فیصلے پر عمل درآمد کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ اس فیصلے نے علاقے میں ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے۔ فیصلے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقے میں شریعت کے نفاذ کی جانب ایک چھوٹا مگر اہم قدم قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ اس فیصلے کے مخالفین اسے ’جہالت‘ قرار دے رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||