| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چمن بارڈر پر ویزا کی پابندی
چمن کے قریب پاک افغان سرحد پر اب پاسپورٹ اور ویزے کی شرط عملی طور پر نافذ کی جا رہی ہے تاکہ القاعدہ اور مشتبہ طالبان کے علاوہ دیگر تخریب کاروں کی نقل و حمل کو روکا جاسکے۔ اس سے پہلے اس مقام سے دونوں طرف کے شہری بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے آیا جایا کرتے تھے۔ وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق افغانستان جانے اور پاکستان آنے والے تمام افراد سفری دستاویزات لازمی فراہم کریں گے۔ اعلی حکام کے مطابق پاسپورٹ اور ویزا کے بغیر دونوں ممالک کے درمیان سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس شرط پر عملدرآمد مرحلہ وار کیا جائے گا کیونکہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان سفر کے لیے سفری دستاویزات کی شرط پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق یہ شرط اب ان تاجروں پر بھی نافذ ہو گی جو اب تک عارضی راہداری یا لال پاس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کرتے تھے۔ مقامی تاجر جانان اچکزئی نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے علاقے میں تجارتی سرگرمیاں کافی حد تک متاثر ہوں گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ شرط ان ڈرائیوروں پر بھی لاگو ہے جو پنجاب اور سندھ سے ٹرکوں پر اشیاء لاتے ہیں۔ یہ اشیاء سرحد پر ہی افغانستا ن کے ٹرکوں پر منتقل کردی جاتی ہیں اسی طرح افغانستان سے آنے والا مال سرحد پر پاکستانی ٹرکوں پر منتقل کردیا جاتا ہے جو آگے دیگر علاقوں تک سامان پہنچاتے ہیں۔ چمن کی سرحد سے پاکستان کو کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں کروڑوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ کوئٹہ میں تعینات ڈپٹی کلکٹر کسٹم وحید مروت نے بتایا ہے کہ برآمدات کی مد میں ماہانہ تین سے چار کروڑ روپے حاصل ہوتے ہیں جبکہ درآمدات کی مد میں لاکھوں ڈالرز آمدنی ہوتی ہے۔ ادھر چمن میں فرنٹیئر کور کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سرحد پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے تاکہ القاعدہ اور مشتبہ طالبان کے علاوہ دیگر تخریب کاروں کی نقل و حمل کو روکا جا سکے۔ اس سلسلے میں کئی افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار بھی کیا گیا ہے جبکہ بیشتر کو سفری کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے واپس افغانستان بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرحد پر کیمرےنصب کیے گیے ہیں اور اضافی روشنی کے لیے بہتر لائٹس کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ افغان حکومت یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ پاکستان کی جانب سے القاعدہ اور مشتبہ طالبان، افغانستان میں تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں قندھار اور سپین بولدک میں بھارتی کونسل خانے کھلنے پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ اقدامات سے دونوں ممالک کے خدشات دور کرنے میں کسی حد تک مدد ضرور ملے گی لیکن دونوں ممالک کے مابین تجارت متاثر ہو گی۔ خصوصاً سرحدی علاقوں میں جہاں زیادہ تر کاروبار مال کے بدلے مال کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||