| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کانسٹیبل نے حد سے تجاوز کیا‘
فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی۔ایس۔پی۔آر کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ میجر جنرل صباحت حسین کی گاڑی روکنے کا واقعہ اندرونی نوعیت کا ایک معمولی واقعہ ہے جس سے آرمی، پولیس اور حکومت کے انتظامی ضوابط کی مدد سے عہدہ برآ ہوا جا سکتا تھا لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ ذرائع ابلاغ اور مفاد پرست عناصر نے اپنی زبان کی لذت کے لیے اس معاملے کو بہت زیادہ اچھال دیا ہے۔ انہوں نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ گاڑی کو ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن ڈرائیور نے گاڑی کچھ آگے جا کر روکی۔ پولیس کانسٹیبل نے پہلے گاڑی کے آگے رکنے اور بعد میں سیاہ شیشوں پر اعتراض کیا۔ شوکت سلطان کے مطابق گاڑی کے شیشے سیاہ نہیں تھے بلکہ پولیس اہلکار کو رات کے اندھیرے میں دھوکا ہوا تھا۔ گاڑی کی ونڈ سکرین پر تین سے چار انچ تک کی ایک سیاہ پٹی تھی جو ڈرائیور کو سورج کی شعاؤں سے بچانے کے لیے چسپاں کی گئی تھی۔ ’پولیس اہلکار نے وہ پٹی اتارنے کو کہا۔ فوجی گاڑی کے ڈرائیور نے منزلِ مقصود پر پہنچ کر سیاہ پٹی اتارنے کا وعدہ کیا لیکن کانسٹیبل نہ مانا۔‘
جنرل صباحت کی گاڑی کے ڈرائیور کا کہنا تھا کہ گاڑی میں صاحب کے اہلِ خانہ سوار ہیں اس لیے وہ سیاہ کاغذ فوری طور پر نہیں اتار سکتا لیکن ’پولیس اہلکار نے اپنی حد سے تجاوز کیا‘۔ جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ صرف اتنی سی بات کا بتنگڑ بنا کر اسے اچھالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایس۔پی ماڈل ٹاؤن کیپٹن احمد مبین ملک اور گلبرگ سرکل کے اے۔ایس۔پی محمد علی نیکوکارہ کے تبادلے کا معاملہ ہے تو یہ ایک معمول (روٹین) کی بات ہے۔ فوج اور پولیس سمیت تمام سرکاری اداروں میں تبادلے ہوتے رہتے ہیں، اس میں کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ اگر پولیس کانسٹیبل سے پوچھ گچھ کی گئی ہے تو یہ پولیس کی محکمانہ کارروائی کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو محکمانہ کارروائی ضرور ہوتی ہے اور یہی اس ادارے کی بقا اور ترقی کی ضمانت ہے۔ اگر کسی محکمے میں پوچھ گچھ کا نظام صحیح ہو تو وہ محکمہ ٹھیک رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر بھی انتظامی قواعد و ضوابط موجود ہیں، اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو انہی قواعد کے تحت اس کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ فوج پولیس پر تبادلوں اور معاملے کے دیگر پہلوؤں کے سلسلے میں دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کچھ قواعد و ضوابط کے تحت کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||