BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2003, 20:11 GMT 01:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادرکو بلوچستان سےجداکرنے کاالزام

بلوچستان
بلوچستان ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے

بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے گوادر بچاؤ تحریک کے حوالے سے غوث بخش بزنجو سٹیڈیم گوادر میں جمعہ کے روز ایک بڑا جلسہ منعقد کیا جس میں سیاسی قائدین نے الزام لگایا کہ گوادر کو بلوچستان سے علیحدہ ایک علاقہ بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا اور سمندر سے دور منتقل کرنا ہے جس سے بڑی تعداد میں مچھیرے بے روزگار ہوں گے۔

احتجاجی جلسے سے جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد عطاءاللہ مینگل، سابق وزیراعلی سردار اختر مینگل، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی، حاصل بزنجو، سردار ثناءاللہ زہری اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اکرم لالہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی حفاظت کے لیے تمام اقدام کیے جائیں گے۔

نواب اکبر بگٹی نے اپنی تقریر میں مختلف خدشات کا ذکر کیا ہے جن میں گوادر کے قریب جیوانی کے مقام پر نیول اور ایئر بیس کا قیام ہے۔

انھوں نے کہا ہے یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ امریکہ کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی کہ وہ قریبی ممالک پر نظر رکھ سکے۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقے کو صوبے سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور یہ کہ بلوچستان کو سمندر سے علیحدہ ایک صوبہ بنا کر اس کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں ۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے صوبے میں پائی جانے والی دولت اور معدنیات کے محافظ صوبے کے لوگ ہیں لہذا وہ اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ گوادر جیسا میگا پراجیکٹ بلوچستان کے لوگوں کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوئی کے مقام سے گیس انیس سو باون میں نکلی ہے اور اب اکاون سال بعد یہاں مقامی مزدوروں کی تعداد تریپن فیصد ہوئی ہے حالانکہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کے سو فیصد مزدور مقامی لوگ ہوں گے۔ اب گوادر کے بارے میں بھی سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں نہ جانے ان خوابوں کا کیا ہوگا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ گوادر کے مقامی مچھیرے نائٹ کلبوں میں جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

نیشنل پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر عبدالمالک نے گوادر سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ اس تحریک کا مقصد اعلی حکام کو یہ بتانا ہے کہ گوادر اور گوادر کے لوگوں کا دفاع کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا ہے مقامی لوگوں کو پورٹ میں ملازمتیں نہیں دی جارہیں بلکہ ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجیوں کو ملازمتیں فراہم کی جا رہی ہیں جو پورٹ کے بارے میں کسی قسم کا تجربہ بھی نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

مقامی صحافی بہرام بلوچ کے مطابق گوادر میں قوم پرست جماعتوں کا یہ بہت بڑا اجتماع تھا جس میں خواتیں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آج سوراب میں وزیراعلی بلوچستان جام یوسف نے بھی ایک جلسے سے خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے جو وعدے کیے تھے انھیں ضرور پورا کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا ہے کہ صوبے میں ترقی کا شاندار دور شروع ہو چکا ہے اور گوادر سمیت تمام علاقوں میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد