BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 October, 2003, 16:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: جنگ کا کباڑ خانہ

جنگ کا کاٹھ کباڑ
ایک ناکارہ ٹینک کا کپولا

افغانستان میں دو دہائیوں سے زائد کی جنگ میں اتنا روسی عسکری سامان یعنی ٹینک اور طیارے بھیجے گئے یا بموں اور راکٹوں کی شکل میں برسائےگئے کہ گنتی مشکل ہے۔ یہ سازوسامان کسی کے لئے اگر موت کی خبر لایا تو بہت سوں کو آج تک اس سے فائدہ بھی ہو رہا ہے اور وہ ہیں جنگی کباڑ کی خریدوفروخت کرنے والے۔

افغانستان سے یہ سکریپ بڑی مقدار میں مختلف سرحدی مقامات سے جن میں طورخم، اور چمن کے علاوہ انگور اڈہ جیسے غیر روایتی راستے بھی شامل ہیں، پاکستان لایا جاتا تھا۔ لیکن دو برس پہلے امریکیوں کی آمد اور پاک افغان سرحد کی ناکہ بندی سے یہ کاروبار بری طرح متاثر ہونا شروع ہوا۔

روسی جیپ
تھکی ماندی روسی جیپ

سکریپ کا کاروبار مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوا کیونکہ غیرروایتی راستوں سے گدھے، گھوڑوں پر یہ سامان اب بھی لایا جارہا ہے لیکن انتہائی تھوڑی مقدار میں۔ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں افغانستان سے لائی گئی لوہے کی ردی کے نصف درجن ڈپو ہیں۔

مٹی کی اونچی چاردیواری پر مشتمل ان ڈپوؤں کے وسیع احاطوں میں افغانستان سے روسی افواج کے چھوڑے گئے یا جنگ میں تباہ ہونے والے پرانے ٹینک، جنگی طیارے اور حالیہ گرائے گئے امریکی بم غرض ہر قسم کا عسکری سامان بکھرا نظر آتا ہے۔ یہ ٹوٹے پھوٹے ٹینک اور گاڑیاں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ روسی افغانستان میں پندرہ برس پہلے آخر کتنا جنگی سازوسامان اپنے پیچھے چھوڑ گئے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔

ٹرک سے کباڑ اتارا جا رہا ہے
ٹرک سے کباڑ اتارا جا رہا ہے

البتہ اس سکریپ میں کوئی امریکی جنگی اسلحے کا ملبہ نہیں آرہا۔ اس کی وجہ اس کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ امریکی اپنے تباہ یا خراب ہونے والے ٹینک ساتھ لے جاتے ہیں۔ ”وہ پیچھے کچھ نہیں چھوڑتے اسلئے آپ کو امریکی سکریپ نظر نہیں آتا۔”

یہ لوہے کا کباڑ ایک عرصے سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں اکٹھا کیا جا رہا ہے اور سرحد پار کر کے پنجاب کی سٹیل ملوں کی بھٹیوں کو بھی گرم رکھے ہوئے ہے۔ لیکن اب سرحد کی ناکہ بندی سے یہ کاروباربھی متاثر ہوا ہے۔

ٹینک کی چین
ٹینک غائب، چین باقی

ماضی میں بغیر کسی روک ٹوک کے افغانستان سے ٹرکوں میں سکریپ لانے والے ایک افغان ڈرائیور سید آغا کا ان مشکلات کے بارے میں کہنا تھا کہ صورتحال پہلے سے کافی مختلف ہے۔ ”بہت تکلیف ہے۔ اب سارا پیسے کا کھیل ہے۔ اگر پیسے نہ دو تو ٹرک واپس کر دیتے ہیں۔ یہ کباڑ میں غزنی اور کابل غرض ہر جگہ سے لاتا ہوں۔ پہلے آزادانہ تجارت ہو رہی تھی لیکن اب نہیں جس سے ہم بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔”

کاروبار کے بارے میں وانا میں ایک سکریپ ڈیلر سید اللہ کا کہنا تھا کہ اب سو میں سے اٹھانوے فیصد کاروبار بھی نہیں رہا۔ ”پہلے کروڑوں کا مال آتا تھا اب بیس ہزار کا بھی نہیں حالانکہ ہم تمام ٹیکس ادا کرتے ہیں اور کرنے کو تیار ہیں۔”

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کئی اشیاء کی کروڑں روپے کی غیرسرکاری تجارت ہوتی رہی ہے جن میں سکریپ بھی شامل ہے لیکن اب کابل میں نئی انتظامیہ کے آنے سے پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تجارت متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کاروبار کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ اسے قانونی رنگ دینے کے لئے جلد اقدامات کئے جائیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد