| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک بھر میں ملت اسلامیہ کا احتجاج
مولانا اعظم طارق کے قتل کے خلاف ان کی تنظیم ملت اسلامیہ کے اعلان پر پاکستان کے بعض شہروں میں احتجاجی ریلیاں ہوئیں ہیں۔ کراچی میں کئی مقامات پر ملت اسلامیہ کے کارکنوں نے پولیس کے سخت حفاظتی انتظامات کی موجودگی میں اپنے سربراہ مولانا اعظم طارق کے قتل کے خلاف احتجاج کیا۔
لاہور میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے باوجود ضلعی حکومت نے ملت اسلامیہ کو نیلا گنبد کے باہر جلسہ کرنے کی اجازت دی جو تقریباً ساڑھے تین بجے شروع ہوا اور چند تقاریر کے بعد حاضرین پر امن طور پر منتشر ہوگۓ۔ جلسہ میں حکومت سے تین بڑے مطالبات کیے گۓ: حکومت مولانا اعظم طارق کے پیش کردہ شریعت بل کو قومی اسمبلی سے منظور کراۓ؛ حکومت ناموس صحابہ کے دفاع کے لیے قانون سازی کرے؛ اور مولانا اعظم طارق سمیت کالعدم سپاہ صحابہ کے تمام قائدین کے قاتلوں کو فوری سزا دی جاۓ۔ اسلام آباد میں دوپہر کے وقت اہم شاہراہوں پر کئی پٹرول پمپ بند رہے جہاں لال مسجد کے سامنے سخت حفاظتی انتظامات میں ملت اسلامیہ کا جلسہ ہوا۔ کوئٹہ میں بھی ملت اسلامیہ کے مرکزی اورصوبائئ قائدین نے مولانا طارق اعظم کے قاتلوں کی فی الفور گرفتارکرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو پھر وہ خود کارروائی کریں گے۔ مقامی انتظامیہ نے جلسے کے حوالے سے سخت حفاظتی اقدامات کیے تھے پولیس اور بلوچستان ریزرو پولیس کے دستے جلسہ گاہ کے ارد گرد تعینات تھے۔ شہر میں جزوی ہڑتال رہی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||