BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 October, 2003, 17:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان سے مویشیوں کی سمگلنگ

مویشی
تینوں ممالک میں گائے کے گوشت کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

ایران اور افغانستان سے ملحقہ پاکستان کی سرحد پر جہاں انسانوں اور اشیاء دونوں کی سمگلنگ جاری ہے وہیں جانوروں اور مویشیوں کی سمگلنگ کا دھندہ بھی عروج پر ہے۔

مویشیوں کے اس غیر قانونی دھندے ہی کی وجہ سے صوبۂ بلوچستان میں ایک طرف گوشت کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور دوسری طرف مضر صحت گوشت کی فروخت میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔

مویشیوں کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ جس بیل کی قیمت کوئٹہ میں دس ہزار روپے ہے وہی بیل قندہار میں بیس ہزار روپے اور خلیجی ممالک میں اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ قیمت میں زمین و آسمان کا یہی فرق بلوچستان کے راستے مویشیوں کے اس غیر قانونی دھندے کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں انجمن قصابان کے صدر گل محمد خروٹی کا کہنا ہے ’قندہار میں گائے کا ہڈی والا گوشت (جسے بڑے کا گوشت کہتے ہیں) ایک سو ساٹھ روپے کلو ملتا ہے اور ایران میں اسی گوشت کی قیمت ساڑھے چار سو روپے فی کلو ہے۔‘

مویشیوں کی سمگلنگ

 ’گوشت تو گوشت۔۔۔ اب تو اوجڑی اور پائے تک بھی بیرون ملک سمگل کئے جا رہے ہیں اور ان کی قیمت بھی بڑھتی جارہی ہے۔

ل محمد خروٹی

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مویشیوں کا یہ غیر قانونی دھندہ کھلے عام جاری ہے اور اس کی روک تھام کے حوالے سے کسی متعلقہ محکمے یا افسر نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔‘

انہوں نے کہا ’گوشت تو گوشت۔۔۔ اب تو اوجڑی اور پائے تک بھی بیرون ملک سمگل کئے جا رہے ہیں اور ان کی قیمت بھی بڑھتی جارہی ہے۔‘

ایران سے ملحقہ پاکستانی سرحدی شہر تفتان کے ناظم جلیل محمدانی کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی دھندے میں ملوث افراد کو پکڑنا خاصا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا ’ تفتان سے ایران کے سرحدی شہر تک جانے میں صرف دس منٹ لگتے ہیں۔ سرحد کی دونوں جانب چھوٹے چھوٹے دیہات ہیں اور سرحد کافی بڑی ہے جس وجہ سے ان لوگوں کو پکڑنا کافی مشکل ہے۔‘

کوئٹہ کے ناظم رحیم کاکڑ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضلع کی حد تک اس غیر قانونی دھندے پر قابو پانے کے لئے دفعہ ایک سو چوالیس بھی نافذ کی تاہم اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔

رحیم کاکڑ کا کہنا ہے ’اسلام آباد میں وزارتِ تجارت کے حکام کثرت سے راہداریاں جاری کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس غیر قانونی دھندے پر قابو پانے کی ہر کوشش بے سود رہی۔ اور اب ناظمین، پولیس، یہاں تک کہ صوبائی حکومت بھی بے بس نظر آتی ہے۔‘

انہوں نے کہا ہے ’سرحد پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور کسٹم کا عملہ اگر اپنے فرائص بہتر انداز میں انجام دیں تو نہ پیٹرول سمگل ہو کر پاکستان آسکتا ہے اور نہ ہی یہاں سے کوئی چیز سمگل ہوکر ایران یا افغانستان جا سکتی ہے۔‘

گوشت کے کاروباری اس غیر قانونی دھندے کو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔

ایک قصاب محمد افضل کا کہنا ہے کہ اس دھندے سے عوام کا بھی نقصان ہورہا ہے اور گوشت کے کاروباریوں کا بھی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں کاروبار سے خاصی بچت ہوجاتی تھی ’مگر اب تو دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ قصاب سمگلروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا ’ہم چھوٹا گوشت سو روپے کلو بیچتے ہیں تو وہ قیمت ایک سو بیس روپے کلو تک بڑھا دیتے ہیں اب صورتحال یہ ہے کہ ہم ڈیڑھ سو روپے کلو گوشت بیچ رہے ہیں تو وہ دوسو روپے کلو کی بات کررہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں گوشت کی قیمت میں تقریباً سو فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن ارباب اختیار کو اس کی پرواہ بھی نہیں۔

عام لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے گوشت کھانا ترک کردیا ہے اور دالوں اور سبزیوں کو اپنی خوراک کا بنیادی جزو بنا لیا ہے۔

مویشیوں کی سمگلنگ

 اب تو دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

ایک قصاب

ان صارفین کا کہنا ہے کہ جو گوشت کوئٹہ میں فروخت ہورہا ہے وہ انتہائی مضر صحت بھی ہے اور مہنگا بھی۔

یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اگر مویشیوں کی سمگلنگ کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا اور موجودہ مویشیوں کی افزائش کے اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند سالوں میں ملک بھر میں گوشت کی قلت میں خطرناک اضافہ ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد